03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میں دل سے چاہتا ہوں کہ تمہارے ساتھ میرا رشتہ ختم ہو کسی طریقے کہنے سے طلاق کا حکم
89087طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرے شوہر نے مجھے کسی کام کرنے کا کہا اور میں  نےانکار کر دیا ،میرے شوہر غصے میں کمرے سے باہر چلے گئے اور مجھے میسج کیا کہ میں دل سے چاہتا ہوں کہ تمہارے ساتھ میرا رشتہ ختم ہو کسی طریقے۔۔اللہ کرے ہو کسی طریقے۔۔اس کے بعد میں نے  کوئی جواب نہیں دیا، پھر رات کو جب ہماری صلح ہوگئی میں نےان سے کہا آپ کو ایسے رشتے کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی تو میرے شوہر کہنے لگے تو ہو  اگر نہیں کرنا تو ہو۔۔اس کے دو یا تین دن بعد میں بیرون ملک چلی گئی  اور وہاں میں نے  انٹرنیٹ پر کنایہ الفاظ سے طلاق کے بارے میں پڑھا، تو مجھے وہم ہونے لگا کہ کہیں یہ کہنے سے ہماری طلاق تو نہیں ہو ئی ؟میں  نے میسج میں اپنے شوہر سے پوچھا، تو وہ کہنے لگے میری نیت طلاق کی نہیں تھی اور میں نے  یہ جو کہا تو  ہو   اگر نہیں کرنا تو ہو۔ اس طرح کہنے کا مطلب  یہ تھا کہ اگر کام نہیں کرنا تو میں ایسے ہی کہتا رہوں گا۔ اس کے بعد میں مطمئن ہوگئی۔

 لیکن اب دو سال بعد پھر ایسے ہی مجھے اس بات کا وہم ہونے لگا کہ شوہر نے دو سال پہلے جو کہا تھا کہ اگر نہیں کرنا تو ہو ۔اس سے کوئی شرط تو نہیں لگ گئی تھی؟ میں  نے پھر اپنے شوہر سے میسج میں پوچھا، تو وہ کہنے لگے میں  نے کہا تھا کہ اگر نہیں کیا تو ختم ہو۔ لیکن میری نیت طلاق کی نہیں تھی۔

 لیکن مجھے یہ جاننا تھا کہ ان کا اصل مطلب پھر کیا تھا تو میں نے  ان کو کہا جب ایسا کہا کہ اگر یہ کام نہیں کرنا تو رشتہ ختم ہو تو اس بات کے دو مطلب ہوتے ہیں کہ رشتہ ختم ہے یا خواہش ہے کہ ایسا ہو، میرے شوہر نے کہا ہاں یہی مطلب تھا یہ تو بلکل بھی نہیں تھا کہ رشتہ ختم ابھی کہ ابھی اگر نہ کیا تو۔اب مجھے یہ پوچھنا ہے کہ میرے اس طرح کہنے سے کیا اس بات کا اقرار ہوا ہے کہ انہوں نے پورا جملہ کہا جبکہ انہوں نے صرف اتنا کہا تھا تو ہو اگر نہیں کرنا تو ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے شوہر کے الفاظ "میں دل سے چاہتا ہوں کہ تمہارے ساتھ میرا رشتہ ختم ہو کسی طریقے"سے طلاق واقع نہیں ہوئی ،  یہ الفاظ صرف ایک  خواہش اور  تمنا کے طور پر کہے جارے ہیں،جس سے نہ ابھی  طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ آئندہ کسی کام کے ساتھ طلاق معلق ہوتی ہے۔

دوسرے جملے "اگر نہیں کرنا تو ہو/ اگر نہیں کیا تو ختم ہو/ کہ اگر یہ کام نہیں کرنا تو رشتہ ختم ہو"کے بارے میں عرض ہے کہ یہ جملہ طلاق اور اظہار خواہش دونوں کا احتمال رکھتاہے  ، جب  عام حالات میں یہ الفاظ کہے جائیں اور طلاق کی نیت  نہ ہوتو  اس سے طلاق نہیں ہوتی ۔ آپ کے شوہر نے صراحتا کہاہے کہ اس سے ابھی  طلاق دینے کی نیت نہیں تھی ، لہذا اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

وفي البحر الرائق(3/409):

 وهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص،،،إلى أن قال :المراد به ما اشتمل على مادة الطلاق صريحا وكناية.

و في الرد(431/4):

و ركنه لفظ مخصوص هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية .

وفي الهندية (411/1)دارالكتب العلمية:

إذا قال لا أريدك أو لا أحبك أو لا اشتهيك أو لارغبه لي فيك،فإنه لا يقع وإن نوى في قول أبي حنيفۃ كذا في البحر الرائق.

وفي الهندية(1(415):

والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إذا كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة ،وما كان بالفارسية من الألفاظ ما يستعمل في الطلاق وفي غيره فهو من كنايات الفارسية فيكون حكمه حكم كنايات العربية في جميع الاحكام.

وفي أصول الشاشي(1/21)مكتبة القديم كراتشي:

 الصريح لفظ يكون المراد به ظاهرا، كقوله بعت واشتريت. وحكمه أنه يوجب ثبوت معناه بأي طريق كان .والكناية هي ما استتر معناه. وحكم الكناية ثبوت الحكم بها عند وجود النية أو بدلالة الحال.

احسان اللہ گل محمد

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 24/5/7144ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب