03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق نامہ پر سائن کرنے سے طلاق کا حکم
89049طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میری شادی ۲۵ جنوری ۲۰۱۹ میں انعام الحق ولد مظہر الجمیل سے ہوئی ۔ کافی عرصہ شادی صحیح چلی ، لیکن ۲۰۲۳ سے ہمارے درمیان ناچاقی بڑھتی گئی۔ لڑائی  اور بحث شروع ہوگئی ۔ جس وجہ سے شاید ہماری کوئی اولاد نہیں ۔ تین مرتبہ حاملہ ہوئی لیکن بچے کی پیدائش نہ ہوسکی ۔میں نے IVF سسٹم کے تحت بھی کوشش کی مگر ناکام رہی ۔اس کے بعد ہمارے درمیان لڑائیاں بڑہ گئی اور میرے شوہر نے دوسری شادی کرلی۔ میں اس کے لیے تیار نہیں تھی ۔ اس کے بعد میں نے اپنے شوہر سے طلاق کی ڈیمانڈ شروع کردی ، لیکن وہ مجھے طلاق نہیں دینا چاہتا تھا ۔ مگر میں ۱۷ مارچ کو دبئی سے واپس کراچی آگئی اور طلاق کی ڈیمانڈ میں بڑھادی ۔ اس کے بعد میں طلاق نامہ بنواکر اپنے شوہر کو پی ڈی ایف بنا کر واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا ، کہ اس پر دستخط کریں ۔ ادھر میں نے پریشر بڑھادیا ، فون پر بس اسی موضوع پر باتیں ہوئی وہ مجھے سمجھاتا  تھا کہ طلاق نہیں ہونی چاہیے ، مگر اس کا attitude کبھی اچھا اور کبھی بہت بُرا ہوتا تھا ۔ ایک دن  فون پر اس نے میرے ساتھ بہت بد تمیزی کی، تو میں غصہ سے انعام الحق کے بڑے بھائی کو فون کرکے  سب کچھ بتادیا۔  جب انعام کے بھائی نے انعام سے بات کی تو انعام طیش میں آگیا اور اس نے طلاق نامہ پر دستخط کرکے واٹس ایپ کے ذریعے میرے جاننے والے کے پاس سینڈ کردیا ۔ مجھے ڈائریکٹ نہیں بھیجا اور نہ ہی مجھے زبانی طلاق کے الفاظ سنائے ۔

اب آپ سے اس بات کی رہنمائی چاہیے کہ میرا شوہر یہ کہتا ہے یہ طلاق پریشر کی وجہ سے دستخط کیئے تھے اور زبانی کچھ بھی نہیں کہا تھا اس وجہ سے یہ طلاق نہیں ہوئی ۔ اس کو اپنے دستخط کرکے سینڈ کرنے کا     پچھتاوا بھی  ہے کہ یہ اس نے غلط کیا ۔

اب آپ سے گزارش ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں میری راہ نمائی کریں کہ یہ طلاق ہوئی کہ نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ لکھے ہوئے طلاق نامہ پر  دستخط کرنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔

لہٰذا انعام الحق ولد مظہر الجمیل نے جب  تین طلاقوں پر مشتمل منسلک طلاق نامہ پردستخط کردیے تو اس سے ان کی بیوی (آپ ) پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ۔ اس کے بعد  نکاح مکمل طور پر ختم ہوگیا،نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح  ۔ اب آپ کا انعام الحق ولد مظہر الجمیل کے ساتھ رہنا حرام ہے ۔

طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے وقت سے سائلہ کی عدت شروع ہو چکی ہے، چنانچہ اس کے بعد جب عدت( تین ماہواریاں) مکمل ہو جائےگی تو  وہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية  (1/ 378):

 (الفصل السادس في الطلاق بالكتابة) الكتابة على نوعين مرسومة ... وإن ‌كانت ‌مرسومة ‌يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187):

وأما ‌الطلقات ‌الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (4/ 68):

فإن كان على رسم كتب الرسالة بأن كتب أما بعد يا فلانة فأنت طالق أو أنت حر أو إذا وصل إليك كتابي فأنت طالق فإنه يقع به الطلاق والعتاق، ولا يصدق في عدم النية.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی    

25 /جمادی الاولٰی/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب