| 89080 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
سوال1۔: کیا اس نیت سے تھوڑا تھوڑا سونا خریدنا کہ چند سالوں کے بعد میرے بچوں کی تعلیم کے لیے استعمال ہو، کیا ایسے سونے پر بھی زکوۃ دینا ہوگی؟کیوں کہ پہلے دن سے ہی نیت اسے اپنی اولاد کے استعمال کے لیے مختص کرنا ہے۔
سوال 2۔: کیا اس نیت سے تھوڑا تھوڑا سونا خریدنا کہ چند سالوں کے بعد اپنا ذاتی گھر خریدیں گےکیا اس پر بھی زکوۃ دینا ہوگی ؟
سوال 3۔: میری بیوی کو جو میری طرف سے اور میرے ماں باپ کی طرف سے شادی کے وقت میں جو سونا دیا گیا جو کہ تقریبا 9 تولہ سے بھی زیادہ ہے، اور تقریباً چھ / سات سال سے وہ سارا سونا میری بیوی کے ماں باپ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے، کافی دفعہ کہنے کے بعد بھی انکے قبضے میں ہی ہے،جو مجھے واپس نہ کیا گیا ،اس سونے میں سے تھوڑا بہت میری بیوی کبھی کبھار اپنے استعمال میں کر لیتی ہے، کیا اس سونے کی زکوۃ مجھے ادا کرنی ہے ؟ یا میری بیوی پر ہے یا میری بیوی کے ماں باپ پر جن کے قبضے میں ہے،یاد رہے کہ یہ سونا نہ تو حق مہر معجل اور نہ ہی غیر معجل اور نہ ہی کسی اور شرط کے سبب یا اسکے بدلے میں دیا گیا ہے۔( حق مہر معجل اور غیر معجل سب کیش کی صورت میں تھا جو شادی کے وقت ہی سارا ادا کیا گیا) یہ سونا جو عام طور پر شادی میں لڑکی کو دیا جاتا ہے اسی طرح میری بیوی کو بھی دیا گیا،شروع کے چند سال تو میں یہی سمجھتا رہا کہ اس کا مالک میں ہوں اور میں نے ہی زکوۃ دینی ہے، اور تقریبن ٢ سال تک میں نے ہی زکوۃ ادا کی کیوں کہ میری بیوی کی کوئی کمائی اور ذریعہ معاش نہیں ہےلیکن اب چونکہ پچھلے چند سالوں سے جب یہ سونا میرے پاس ہے ہی نہیں اور نہ ہی میری بیوی کے پاس تو میں نے زکوۃ ادا نہیں کی اس پر شریعت سے رہنمائی فرمائیں ۔ اور اب کی موجودہ صورت حال تو یہ ہے کہ میں نے تو پوچھنا ہی بند کردیا کہ اس سونے میں سے کتنا سونا ابھی بھی ہے یا بیچ کر کھا پی لیا ہے۔
سوال 4 ۔: ضمنا یہ بھی سوال ہے کہ اگر بیوی کی کوئی کمائی اور ذریعہ معاش نہ ہو اور اس پر زکوۃ دینا بھی لازم ہو، تو وہ کیسے ادا کرے ، یا اسکے شوہر پر لازم اور ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کی طرف سے ادا کرے؟
سوال 5۔: کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ تمہاری بیوی تمہاری ذمہ داری ہے تم نے ہی اس کی زکوۃ ادا کرنی ہے۔میں نے ان سے کہا کہ بیوی کی ضرویات زندگی پوری کرنا تو سمجھ میں آتا ہےاور الحمدللہ اپنی حیثیت کے مطابق پوری بھی کر رہا ہوں لیکن زکوۃ اسکی ' تو میں کیوں دوں ؟ کیا شریعت مجھے اس پر پابند کرتی ہے کہ اپنی زکوۃ کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کی بھی ادا کروں ؟ اور مجھے تو آج تک یہ بھی نہیں پتا کہ بیوی کے ماں باپ نے کیا کچھ اسکے نام پر لگا رکھا ہے، جزاک الله خیرا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سوالات کا جواب بالترتیب درج ذیل ہے :
1۔بچوں کی تعلیم کے لیےجمع کیےہوئےسونےپر زکوۃ واجب ہو گی، بشر طیکہ سونا یا اس کے ساتھ نقدی ،چاندی وغیرہ ملا کر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت )کو پہنچ جائے اورمکمل سال بھی گزر جائے۔
2۔گھر بنانے کے لیے جمع کیے گئے سونے پر زکوۃ واجب ہوگی، بشرطیکہ نصاب مکمل ہو اورمکمل سال بھی گزر جائے۔
3۔آپ کی بیوی کو شادی میں جو زیورات آپ کے گھر والوں کی طرف سے دیے گئے ہیں اگر وہ صرف پہننےکےلیےدیےہیں، بطور ملکیت نہیں دیےتو آپ کی بیوی پر اس کی زکوۃ نہیں ،بلکہ آپ پر اس کی زکوۃ لازم ہے۔ لیکن چونکہ وہ زیورات آپ کے پاس نہیں سسرال والوں کے پاس ہیں اگر آپ کو امید ہے کہ وہ مجھے مل سکتےہیں توآپ کو یہ حق حاصل ہے کہ زیورات کا مطالبہ کریں اور اس کی زکوۃ دیں ۔البتہ زکوۃ کی ادائیگی زیورات ملنےکےبعد بھی کر سکتےہیں اس صورت میں گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگی ۔اگر وہ زیورات ملنے کی امید نہیں تو آپ کے ذمہ اس کی زکوۃ بھی نہیں ہو گی ۔
اگر آپ کے گھر والوں نے زیورات بیوی کو مالک بنا کر دیےہیں تو ان زیورات کی مالک چونکہ آپ کی بیوی ہے ،لہذا ان کی زکوۃ بھی بیوی پر لازم ہے ، شوہر کے ذمہ نہیں ۔البتہ بطور وکیل شوہر اپنی بیوی کی طرف سے زکوۃ ادا کر سکتا ہے ، خواہ بیوی پیسے دے اور شوہر اس کی طرف سے مصرف میں خرچ کرے یا شوہر اپنی آمدن میں سے پیسے دے ۔ اس صورت میں زکوۃ نکالنے سے پہلے بیوی کے علم میں لانا ضروری ہوگا کہ اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کر رہا ہوں۔باقی بیوی کی مملوکہ اشیاء پر شوہر کی ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے شوہر پر زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے ۔
حوالہ جات
(رد المحتار: (262/2، ط: دار الفكر)
فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي وإن كان كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى. حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها.
(الدر المختار: 258/2 267، ط: دار الفكر)
و شرط افتراضها عقل و بلوغ و إسلام وحرية والعلم به ولو حكما ككونه في دارنا ( وسببه) أي سبب افتراضها ملك به نصاب حولي ولي نسبة للحول الحولانه عليه (تام)..... ( وشرطه) أي شرط افتراض أدائها حولان الحول) وهو في ملكه وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاةكيفما أمسكهما ولو للنفقة.
(فتاوی تاتارخانیہ :كتاب الزكوة، ج : 2، ص: 217، ط: ادارة القرآن)
"الزكوة واجبة علي الحر العاقل البالغ المسلم اذا بلغ نصابا ملكا تاما و حال عليه الحول."
وفی الفتاوی الہندیہ :
(كتاب الزكوة، الباب الأول في تفسير الزكوة، ج1، ص: 171، ط: مکتبه رشيديه)
"إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز."
عادل ارشاد
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25/جمادی الاول/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


