| 89081 | حج کے احکام ومسائل | حج کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم سر میرا سوال ہے کہ میں نےغلطی سے حج کے طواف وداع میں بیت اللہ کے 8 چکر لگائے تھے اُس سے پہلے بھی ایک مرتبہ عمرہ کے طواف کے 8 چکر لگائے تھے میں غلطی سے 8 چکر کو سات چکر سمجھتا تھا اب اس پر کیا کفارہ ہوگا۔
تنقیح : سائل سے رابطہ پر معلوم ہوا کہ انہوں نے جان بوجھ کر آٹھ چکر لگائےاور یہ سمجھتے تھے کہ آٹھواں چکر پورا کرونگا تو سات ہوں گے یعنی طواف مکمل ہوگا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا ارادہ نئے طواف شروع کرنے کا نہیں ہوتا تھا ،صرف یہ سمجھتے تھے کہ میرا طواف اس وقت پورا ہوگاجب یہ آٹھواں چکر بھی لگے گا۔اس صورت میں نیا طواف واجب نہیں ہوتا اورنہ ہی کوئی دم وغیرہ آئے گا ۔
حوالہ جات
( فتاوی الشامیہ كتاب الحج، فصل في الإحرام وصفة المفرد، ج:2، ص: 496، ط: سعيد)
فلو طاف ثامنا من عمله به) فالصحيح أنه (يلزمه إتمام الأسبوع للشروع) أي لأنه شرع فيه ملتزما بخلاف ما لو ظن أنه سابع لشروعه مسقطا لا مستلزما بخلاف الحج... (قوله مع علمه به) أي بأنه ثامن لكن فعله بناء على الوهم أو الوسوسة لا على قصد دخول طواف آخر، فإنه حينئذ يلزم اتفاقا شرح اللباب، قلت: لكن التعليل يفيد أن الخلاف فيها لو قصد الدخول في طواف آخر أيضا (قوله لشروعه مسقطا لا ملزما) أي لأنه شرع فيه الإسقاط الواجب عليه وهو إتمام السبعة لا ملزما نفسه بشوط مستأنف حتى يجب عليه إكماله لما تبين له أنه ثامن (قوله بخلاف الحج) فإنه إذا شرع فيه مسقط يلزمه إتمامه بخلاف بقية العبادات بحر... والحاصل أن الطواف كغيره من العبادات مثل الصلاة والصوم لو شرع فيه على وجه الإسقاط بأن ظن أنه عليه ثم تبين خلافه لا يلزمه إتمامه إلا الحج، فإنه يلزمه إتمامه مطلقا كما مر أول الفصل."
وفی بحر الرائق:
(كتاب الحج، باب الإحرام، ج 3، ص: 356، ط: دار الكتاب الإسلامي)
لو طاف فرضا أو غيره ثمانية أشواط إن كان على ظن أن الثامن سابع فلا شيء عليه كالمظنون ابتداء، وإن علم أنه الثامن اختلف فيه، والصحيح أنه يلزمه سبعة أشواط للشروع ولو طاف أسابيع
فعليه لكل أسبوع ركعتان على حدة ولو شك في عدد الأشواط في طواف الركن أو العمرة أعاده."
عادل ارشاد
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۶/جمادی الاولی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


