| 89078 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ بخیر ہوں گے۔ میرا ایک مسئلہ ہے جس پر شرعی رہنمائی اور فتوی درکار ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کے انتقال کے بعد میری والدہ کے مہر کے طور پر جو سونا تھا، میرے والد نے خود تقسیم کیا۔ اس تقسیم میں ایک بہن کو بھی دیا، مجھے بھی حصہ دیا، اور خود بھی کچھ رکھا۔ اس وقت خاندان کے چند افراد بطور گواہ موجود تھے۔ اب تقریباً گیارہ سال گزر چکے ہیں، میرے والد اب وہ سونا مجھ سے واپس لینا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "ماں کے مہر میں بچوں کا کوئی حق نہیں ہوتا"۔ جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ماں کے مہر کا مال بچوں کا حق بنتا ہے۔ لہٰذا گزارش ہے کہ اس بارے میں شرعی طور پر فتوی عطا فرمائیں کہ میری والدہ کے مہر کا سونا کس کا حق بنتا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مہر بیوی کا حق ہے اور بیوی اس مہر کی خود مالک ہوتی ہے۔ صورت مسئولہ میں آپ کی والدہ کی وفات کے بعد مہر میں دیا گیا سونا مرحومہ (آپ کی والدہ )کا ترکہ شمار ہوگا ۔اور ان کے سب ورثہ میں وراثت کے اصولوں کے مطابق تقسیم ہوگا، ورثہ میں بیٹا ، بیٹی ، شوہر (آپ کے والد) ہیں تو تینوں کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا ۔
چونکہ آپ بھی وارث ہیں اس لیے آپ کے والد کا یہ کہنا کہ مہر میں بچوں کا کوئی حق نہیں غلط ہے۔اگر وہ سونا شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوا تھا تو ٹھیک ہےورنہ اس کی تقسیم شرعی حصص کے مطابق کرنی چاہیے۔اگر شرعی تقسیم مطلوب ہے تو تمام ورثہ کے نام لکھ کر دوبارہ سوال ارسال کیجیے۔
حوالہ جات
فی أحکام القرآن :
(سورة النساء، الآية: 24، باب المهور، ج 3، ص: 86، ط: دار إحياء التراث العربي):
"قال الله تعالى وأحل لكم ما وراء ذلكم أن تبتغوا بأموالكم فعقد الإباحة بشريطة إيجاب بدل البضع وهو مال فدل على معنيين أحدهما أن بدل البضع واجب أن يكون ما يستحق به."
(بدائع الصنائع کتاب النكاح فصل في بيان ما يتأكد به المهر : ۳/ ۵۲۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت):
فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل، حتى لا يسقط شئى منه بعد ذلك إلا بالابراء من صاحب الحق.
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار :
(كتاب النكاح، باب المهر:ج 3، ص : 102، 103، ط: سعيد)
" ( وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و يجب الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج أو موت أحدهما).
عادل ارشاد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۶/جمادی الاول/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


