03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یک طرفہ عدالتی خلع کا حکم
89070طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میری بہن کا چند ماہ پہلے نکاح ہوا تھا، البتہ رخصتی وغیرہ نہیں ہوئی اور بہن کااپنے شوہر سے صرف فون پررابطہ تھا، بعد میں ان میں کچھ غلط فہمی اور اختلافات پیداہو گئے، جس کی وجہ سے ہم نے عدالت سے یک طرفہ خلع لے لیا، عدالت نے  شوہر کو نوٹس بھیجے،لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ،اور خلع کا فیصلہ ہوگیا۔

  پھر  بعد میں بڑوں نے بیچ میں آکر صلح صفائی کروائی، لہذا ابھی وہ اپنا  سابقہ رشتہ برقرار رکھنا چاہتی ہے تو آپ سے یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا دوبارہ نکاح ہوگا یا سابقہ نکاح بدستورباقی ہے؟

وضاحت: عدالت سے بغیر کسی معتبر وجہ کے صرف غلط فہمی کی بنیاد پر لیا گیا تھا، غلط فہمی دور ہونے پر اب دونوں فریق اکٹھے رہنا چاہتے ہیں، شوہر نے عدالتی فیصلہ پر دستخط بھی نہیں کیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق چونکہ یہ خلع بغیر کسی معتبر شرعی وجہ کے لیا گیا ہے، اسی لیے عدالتی فیصلے میں بھی کوئی خاص وجہ ذکر نہیں کی گئی، بس صرف یہ لکھا گیا ہے کہ عورت کو مرد سے نفرت ہو چکی ہے، اس لیے وہ اب کسی صورت اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، دوسری طرف خاوند بھی عدالت میں حاضر نہیں ہوا اور اس نے عدالتی فیصلہ پر دستخط بھی نہیں کیے، اس لیے یک طرفہ طور پر لیا گیا  عدالت کا مذکورہ فیصلہ شرعاً معتبر نہیں، لہذا فریقین کے درمیان بدستور نکاح قائم ہے اور فریقین کا بغیر تجدیدِ نکاح کے میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہنا شرعاً جائز اور درست ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440) دار الفكر-بيروت:

في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده۔

بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90) دار الحديث – القاهرة:

المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.

والأصل في ذلك قوله تعالى: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] وقوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

26/جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب