| 89380 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
حضرات مفتیان کرام سے چند امور میں رہنمائی مطلوب ہے:
- وقف کی تعریف کیاہے؟
- کون کون سی اشیاءکاوقف درست ہے؟
- وقف کاحکم کیاہے؟نیزوقف عام ووقف خاص کیاہے ؟
- مسجد،خانقاہ ،مدرسہ ،تبلیغی مرکز یاکوئی بھی ادارہ ہویہ کون سےوقف میں آتاہے؟ان جگہوں میں سےکہاں پرواقف کاتصرف پوراماناجائےگااورکن جگہوں میں محدوداورکہاں بالکل بھی نہیں ؟
- کیا وقف میں عوام یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ یہ ہم سب کی مشترکہ ہے، چاہے کسی نے جانی یا خاص کر مالی تعاون کیا ہو یا نہ کیا ہو؟
- جو لوگ مسجد، مدرسہ یا خانقاہ میں رقم وقف کرتے ہیں، کیا وہ اسے واپس لینے کا حق رکھتے ہیں؟ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مسجد کے علاوہ لوگ خانقاہ، مدرسے یا مرکز وغیرہ میں خاص طور پر شخصیات سے تعلق کی بنیاد پر تعاون کرتے ہیں، اگرچہ اجر و ثواب کی نیت بھی ہوتی ہے۔ تو کیا ایسی صورت میں بھی یہ تعاون یا ہدیہ دینے والا کی ملکیت سے نکل کر وقف بن جاتا ہے، اور جب وقف ہو گیا تو کیا واپس مانگنے کا حق بالکل ختم ہو جاتا ہے؟
- واقف کی تخریب یا تعمیر میں لوگ رکاوٹ ڈال سکتے یا نہ، یا از خود تخریب یا تعمیر بغیر واقف کی اجازت کر سکتے یانہیں کا عدالت میں وقف کے متعلق عوام تخریب تعمیر پر (stay) لے سکتے یا نہ؟
- وقف کے متعلق واقف کی نیت کا اعتبار ہو گا کہ نہیں ؟ اور حکم شرعی اُس کے مطابق ہوگا یا واقف کی نیت کے اعتبار سے ہو گا ؟
- اگر واقف نے صراحت کوئی نیت نہ کی ہو ۔ عرف کے مطابق یہ مطلب لیا جائے ، کہ صدقہ جاریہ یا ایصال ثواب و غیر و تو کیا یہ درست ہے ؟
- واقف وقف شدہ جگہ چیز سے رجوع کر سکتا ہے یا نہیں ؟
- گاؤں دیہاتوں میں عرف کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ اگر مسجد میں بھی کوئی اچھا کام کرنا چاہے، تو واقف کی اجازت کے بغیر ناممکن ہے، تو کیا اس کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟ اور کیا وقف کرنے کے بعد واقف کو یہ کہنا جائز ہوگا کہ میری چیز ہے ، اس کا متولی بھی میں ہوں، میں کام اپنے طریقے سے کروں گا؟ اور اگر لوگ واقف کی مخالفت کریں تو کیا واقف ان کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- وقف کی تعریف یہ ہے کہ مال کو مالک کی ملکیت سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں اس طور پر داخل کر دیا جائے کہ اصل مال باقی رہے اور اس کا نفع ہمیشہ خیر و دینی کاموں میں خرچ ہو؛ اس کے بعد وہ مال واقف کا نہیں رہتا بلکہ مستقل صدقۂ جاریہ بن جاتا ہے۔
- وقف غیر منقولہ چیزوں مثلاً :زمین، مکان، دکان میں مکمل درست ہے، جبکہ منقولہ اشیاء میں صرف وہی وقف درست ہے جہاں عرف و تعامل پایا جاتا ہو، جیسے قرآنِ مجید کا وقف؛ اور اگر تعامل نہ ہو تو منقولہ کو غیر منقولہ کے تابع بنا کر وقف کرنا درست ہے، مگر محض منقولہ چیز کا اصالتاً وقف صحیح نہیں ہوتا۔
- وقف مکمل ہونے کے بعد موقوفہ چیز ہمیشہ کے لیے واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے، لہٰذا اسے بیچنا، واپس لینا یا ورثے میں بانٹنا جائز نہیں۔ بلاتعیین کےوقف کرناوقف عام کہلاتاہے،جبکہ مخصوص افراد،ادارہ کےلیےوقف کرناوقف خاص کہلاتاہے۔
- مسجد، مدرسہ، خانقاہ اور تبلیغی مراکزمیں واقف کی نیت کا اعتبار ہوگا ، اگر مطلقاً کسی بھی مسجد، مدرسہ وغیرہ کے لیے وقف کیا ہو تو وہ وقفِ عام ہوگا، ورنہ وقفِ خاص شمار ہوگا۔ ، اور وقف کے بعد ان جگہوں میں اصل مالک واقف نہیں رہتا بلکہ انتظامی تصرف متولی کے ہاتھ میں ہوتا ہے؛ کہیں بھی واقف کو مطلق مالک جیسا اختیار نہیں رہتا بلکہ جو بھی اختیار ہو صرف مصلحتِ وقف کے دائرے میں محدود ہوتا ہے۔
- عوام یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ وقف شدہ جگہ ہماری مشترکہ ملکیت ہے، کیونکہ وقف کسی فرد یا عوام کی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی ملکیت قرار پاتا ہے؛ ہاں اگر “مشترکہ” سے صرف استعمال میں شراکت مراد ہو تو وہ درست ہے، ورنہ مالی تعاون سے بھی ملکیت کا حق پیدا نہیں ہوتا۔
- چندے کی نیت سے رقم وقف میں دی جاسکتی ہے، چندہ دینے کے بعد وہ رقم وقف کی ملکیت بن جائے گی۔اور جو لوگ مسجد، مدرسہ یا خانقاہ کو رقم یا سامان وقف کرتے ہیں وہ اسے کسی صورت واپس لینے کا حق نہیں رکھتے، کیونکہ وقف لازم ہو جاتا ہے اور واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے؛ چاہے ایسا تعاون تعلقات، محبت یا عزت کی بنیاد پر کیوں نہ ہو، اس کے باوجود وقف کا مال واقف کے لیے قابلِ رجوع نہیں رہتا۔
- بلا ضرورت وقف کی تخریب (توڑ پھوڑ ) مصلحت وقف کےخلاف ہونےکی وجہ سےجائز نہیں، البتہ اگر وقف کی عمارت بوسیدہ ہو چکی ہو تو تعمیرِ نو کے مقصد سے اس کی تخریب جائز ہے۔ نیزاگروقف میں تعمیرکی ضرورت ہوتواس کا حق واقف یااس کی جانب سےمقررکردہ متولی کوحاصل ہے،ایسی صورت میں لوگوں کا تعمیرمیں رکاوٹ ڈالنادرست نہیں ہوگا،اورلوگوں کاواقف کی اجازت کےبغیروقف میں تعمیرکرنادرست نہیں ہےاگرلوگ واقف کی مخالفت کریں توواقف کوعدالت سےرجوع کاحق ہوگا۔
- وقف میں واقف کی نیت معتبر ہوتی ہے، لہٰذا اگر نیت اور الفاظ واضح ہوں تو وقف کا مصرف و حکم اسی نیت کے مطابق متعین ہوگا، کیونکہ شریعت میں معاملات کی بنیاد نیت اور الفاظ دونوں پر ہوتی ہے اور وقف کا مصرف انہی کے مطابق تعین پاتا ہے۔
- اگر واقف نے کسی نیت یا مصرف کی صراحت نہ کی ہو تو عرف کی بنیاد پر وقف کے مقصد کا تعین کیا جائے گا، مثلاً اگر جگہ مسجد کے طور پر دی گئی ہو تو عرفاً مسجد ہی کا وقف سمجھا جائے گا، اور اسی طرح مدرسہ یا فلاحی ادارے کے لیے دی گئی چیز اپنے عرفی مطلب کے مطابق وقف شمار ہوگی۔
- وقف کے بعد واقف وقف شدہ چیز سے ہرگز رجوع نہیں کر سکتا، کیونکہ وقف ایک لازم اور غیر قابلِ رجوع عمل ہے اور ایک بار وقف ہوجانے کے بعد مال نہ واقف کی ملکیت رہتا ہے نہ وہ کسی بھی صورت اسے واپس لینے یا اس پر ملکیت جتانے کا حق رکھتا ہے۔
- اگر مسجد وقف کرتے وقت واقف یہ شرط رکھ دے کہ مسجد کی تمام ضروریات وہ خود پوری کرے گا اور کسی دوسرے کو اجازت نہیں ہے، تو ایسی صورت میں اس کی اجازت ضروری سمجھی جائے گی اور اس شرط کا اعتبار ہوگا۔البتہ چونکہ مسجد اللہ کا گھر ہے، اس لیے واقف کے لیے بہتر ہے کہ وہ دوسروں کو بھی مسجد کے لیے عطیہ دینے کی اجازت دے۔تاہم انتظامی اعتبار سے موقوفہ جگہ میں واقف یامتولی کی اجازت کےبغیرہرکس وناکس کوتصرف کاحق نہیں ہے،اگرچہ خیرخواہی کےارادےسےہو،پس مسجدکےلیےکوئی کام کرنا ہو توواقف یامتولی کی مشاورت سےکیاجائے۔
حوالہ جات
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 15):
«الوقف لغة. هو الحبس تقول وقفت الدابة وأوقفتها بمعنى. وهو في الشرع عند أبي حنيفة: حبس العين على ملك الواقف والتصدق بالمنفعة بمنزلة العارية. ثم قيل المنفعة معدومة فالتصدق بالمعدوم لا يصح، فلا يجوز الوقف أصلا عنده، وهو الملفوظ في الأصل. والأصح أنه جائز عنده إلا أنه غير لازم بمنزلة العارية، وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 363):
«مطلب في وقف المنقول قصدا (قوله: كل منقول قصدا) إما تبعا للعقار فهو جائز بلا خلاف عندهما كما مر لا خلاف في صحة وقف السلاح والكراع أي الخيل للآثار المشهورة والخلاف فيما سوى ذلك فعند أبي يوسف لا يجوز وعند محمد يجوز ما فيه تعامل من المنقولات واختاره أكثر فقهاء الأمصار كما في الهداية وهو الصحيح كما في الإسعاف، وهو قول أكثر المشايخ كما في الظهيرية؛ لأن القياس قد يترك بالتعامل ونقل في المجتبى عن السير جواز وقف المنقول مطلقا عند محمد وإذا جرى فيه التعامل عند أبي يوسف وتمامه في البحر والمشهور الأول»
فتاوی دارالعلوم دیوبندمیں ہے:
"اشیاء منقولہ کا وقف کرنا جو قابل وقف اور دیر پا ہیں، غیر منقول کی تبعیت میں جائز ہے، اور مستقلاً ان کے وقف کے لیے تعامل کی ضرورت ہے،اثاث البیت میں سے بعض کپڑوں اور برتنوں وغیرہ کا وقف مستقل طور پر بھی جائز ہے۔"
) باب الوقف ،ج:13،ص:120،ط: دارالاشاعت (
«الموسوعة الفقهية الكويتية» (33/ 109):
«الأصل في الوقف أنه من القرب المندوب إليها، إذ هو حبس الأصل والتصدق بالمنفعة، والأصل فيه ما روى عبد الله بن عمر رضي الله تعالى عنهما، قال أصاب عمر بخيبر أرضا، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أصبت أرضا لم أصب مالا قط أنفس منه فكيف تأمرني به؟ فقال: إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها فتصدق عمر أنه لا يباع أصلها ولا يوهب، ولا يورث في الفقراء والقربى والرقاب، وفي سبيل الله والضيف وابن السبيل، لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف، أو يطعم صديقا غير متمول فيه.
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص371):
«وفي الدرر: وقف مصحفا على أهل مسجد للقراءة إن يحصون جاز، وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ فيه، ولا يكون محصورا على هذا المسجد.وبه عرف حكم نقل كتب الاوقاف من محالها للانتفاع بها والفقهاء بذلك مبتلون، فإن وقفها على مستحقي وقفه لم يجز نقلها وإن على طلبة العلم وجعل مقرها في خزانته التي في مكان كذا ففي جواز النقل تردد.نهر (ويبدأ من غلته بعمارته)ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح، وتمامه في البحر (وإن لم يشترط الوقف) لثبوته اقتضاء وتقطع الجهات للعمارة إن لم يخف ضرر بين.فتح.فإن خيف كإمام وخطيب وفراش قدموا فيعطى المشروط لهم،وأما الناظر والكاتب والجابي، فإن عملوا زمن العمارة، فلهم أجرة عملهم لا المشروط.
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 459):
«لا يجوز الرجوع عن الوقف إذا كان مسجلا، ولكن يجوز الرجوع عن الموقوف عليه وتغييره وإن كان مشروطا كالمؤذن والإمام والمعلم إن لم يكونوا أصلح أو تهاونوا في أمرهم، فيجوز للواقف مخالفة الشرط اهـ.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 340):
«وركنه الألفاظ الخاصة ك) أرضي هذه (صدقة موقوفة مؤبدة على المساكين ونحوه) من الألفاظ كموقوفة لله تعالى أو على وجه الخير أو البر واكتفى أبو يوسف بلفظ موقوفة فقط قال الشهيد ونحن نفتي به للعرف»
«درر الحكام شرح غرر الأحكام» (2/ 136):
«و) جاز أيضا (جعل) الواقف (الولاية لنفسه) لأن المتولي يستفيد الولاية منه فيكون له ولاية ضرورة لكنه بعد ذلك إن كان غير مأمون على الوقف فللقاضي أن ينزعه من يده نظرا للفقراء، وكذا لو شرط أن لا يخرجه سلطان أو قاض من يده ويولي غيره؛ لأنه شرط مخالف لحكم الشرع (وأجاز أبو يوسف جعل غلة الوقف لنفسه) يعني إذا وقف وشرط الكل أو البعض لنفسه ما دام حيا وبعده للفقراء بطل الوقف عند محمد وهلال لفوات معنى القربة بإزالة الملك إلى الله تعالى.
وقال أبو يوسف يصح اعتبارا للابتداء بالانتهاء فإنه يجوز على جهة تنقطع فيعود إلى ملك المالك ومشايخ بلخي أخذوا بقول أبي يوسف وعليه الفتوى ترغيبا للناس في الوقف كذا في الخانية وغيرها (وأجاز) أيضا (شرط) الواقف (أن يستبدل به أو يبيعه ويشتري بثمنه أرضا أخرى إذا شاء) ، (فإذا فعل صارت الثانية كالأولى في شرائطها بلا ذكرها، ثم لا يستبدلها بثالثة) ؛ لأنه حكم ثبت بالشرط، والشرط وجد في الأولى لا الثانية (وأما بدون الشرط فلا يملكه) أي الاستبدال (إلا القاضي) كذا في الخانية.»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 110):
«رجل بنى مسجدا وجعله لله تعالى فهو أحق الناس بمرمته وعمارته وبسط البواري والحصر والقناديل، والأذان والإقامة والإمامة إن كان أهلا لذلك فإن لم يكن فالرأي في ذلك إليه. كذا في فتاوى قاضي خان.»
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
28/جمادی الاولی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


