03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ورثاء کے درمیان مکان کی تقسیم
89117تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

عرض یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال 1998  میں ہو چکا ہے، اور والدہ کا انتقال 2020  میں ہوا۔والد صاحب نے اپنے پسماندگان کے لیے ایک مکان چھوڑا ہے، جو اب وراثت میں تقسیم ہونا ہے۔والد صاحب کے ورثاء میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ان چار بیٹوں میں سے ایک بھائی کا انتقال 2019ء میں ہو اہے،مرحوم بھائی کی چار بیٹیاں ہیں، جن میں سے تین شادی شدہ اور ایک غیر شادی شدہ ہے۔مرحوم بھائی نے اپنی بیوی کو زندگی میں طلاق دے دی تھی، جس کے بعد اس بیوی نے دوسرا نکاح کر لیا تھا، اور اب اس کے دوسرے شوہر کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔اب دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا مرحوم بھائی کی مطلقہ بیوی کو والد صاحب کے چھوڑے ہوئے اس مکان (وراثت) میں کوئی حصہ ملے گا یا نہیں؟

اور والد صاحب کے اس مکان کی شرعی تقسیم ہم تمام ورثاء کے درمیان کس طرح کی جائے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم والد کا تمام تر مال مکان، جائیداد، سونا، چاندی، نقدی، کاروبار، قرض کی رقم اور ہر چھوٹا بڑا سامان   ان کا ترکہ ہے، جس کی تقسیم سے پہلے شرعاً یہ  ضروری ہے کہ سب سے پہلے تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں (اگر کسی نے احساناً ادا کیے ہوں تو ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے)، پھر مرحوم کے ذمے کسی کا قرض ہو تو ادا کیا جائے، اس کے بعد اگر کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت ہو تو ایک تہائی تک پوری کی جائے، اور اس کے بعد باقی مال ورثاء میں تقسیم کیا جائے۔ چونکہ بیوی  اس وقت زندہ تھیں اس لیے انہیں ایک آٹھواں (1/8) حصہ ملے گا، اور باقی سات آٹھواں(7/8)حصہ اولاد میں اس شرعی اصول کے مطابق تقسیم ہوگا کہ بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دُہرا حصہ ملتا ہے۔ چار بیٹے اور دو بیٹیاں مجموعی طور پر دس حصے بنتے ہیں، لہٰذا باقی ترکہ میں سے ہر بیٹے کا حصہ سات چالیسواں (7/40) اور ہر بیٹی کا حصہ سات اسیواں(7/80) مقرر ہوگا۔

اور صورتِ مسئولہ میں چونکہ مرحوم بھائی کی بیوی کو طلاق مل چکی تھی اور اس کی عدت بھی پوری ہو چکی تھی، اس لیے شوہر کے انتقال کے بعد اُس  کو اپنے والد کی میراث سے ملنے والے حصے میں سے اس کی بیوی کو کچھ نہیں ملے گا،بلکہ اس کی وفات کے وقت دیگر زندہ ورثہ یعنی والدہ اور چار بیٹیوں میں تقسیم ہوگا ۔

پھر والدہ کے دونوں حصے اور جو کچھ اس کی ملکیت میں ہو وہ اس کی وفات کے وقت اس کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ان کے حصوں کی تقسیم بالترتیب والد،بھائی اور والدہ کےذیل میں دیے گئے  نقشوں میں ملاحظہ ہو۔

والد کے ورثاء کا نقشہ

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوہ

1/8

12.5%

2

بیٹا

7/40

17.5%

3

بیٹا

7/40

17.5%

4

بیٹا

7/40

17.5%

5

بیٹا

7/40

17.5%

6

بیٹی

 7/80

8.75%

7

بیٹی

7/80

8.75%

 

 

 

 

 

 

 

 

بھائی کے ورثاء کا نقشہ

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

والدہ

1/6

16.67%

2

بیٹی

5/24

20.83%

3

بیٹی

5/24

20.83%

4

بیٹی

5/24

20.83%

5

بیٹی

5/24

20.83%

6

بہن بھائی

محروم

 

7

بیوہ/مطلقہ

محروم

 

 

 

 

 

 

 

 

والدہ کے ورثاء کا نقشہ

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹا

1/4

25%

2

بیٹا

1/4

25%

3

بیٹا

1/4

25%

4

بیٹی

1/8

12.5%

5

بیٹی

1/8

12.5%

 

حوالہ جات

القرآن الکریم: [سورة النساء: 11].

 { يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11].

السراجی فی المیراث، ص5:

قال علماؤنا رحمهم الله  تعالی: تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: الأول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غیر تبذیر ولاتقتیر، ثم تقضی دیونه  من جمیع ما بقی من ماله،  ثم تنفذ وصایاه من ثلث ما بقی بعد الدین، ثم یقسم الباقی بین ورثته بالکتاب والسنة وإجماع الأمة.

«المحيط البرهاني» (3/ 411):

«‌ولو ‌طلّقها ‌طلاقاً ‌بائناً ‌أو ‌ثلاثاً ‌ثمَّ ‌مات وهي في العدّة، فلو طلّقها فكذلك عندنا ترث، ولو انقضت عدّتها ثمَّ مات لم ترث.

محمد ابراہیم  عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

29/جمادی الاولی 7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب