| 89137 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
فیسبک میں ایڈزکے زریعےپیسے کمانے کا حکم قرآن وسنت کے مطابق کیا ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فیسبک پیج پر پیسےکمانے کےلیے عام طور پر ویڈیوز کے ذریعے مختلف قسم کے اشتہارات چلائے جاتے ہیں، جن سے پیج کا مالک آمدنی حاصل کرتا ہے۔ اس کمائی کے حلال یا حرام ہونے کا حکم ان اشتہارات کے مواد پر موقوف ہے۔ لہٰذا فیسبک پیج سے جائز کمائی کے لیے درج ذیل شرائط کا لحاظ ضروری ہے:
1- جن کمپنیوں یا لوگوں کے ساتھ اشتہارات چلانے کا معاہدہ کیاگیاہو، ان کا اصل کاروبار حلال ہو ۔لہذا سودی ادارہ یا فلم اور ڈرامہ انڈسٹریزکے اشتہارات چلانا جائزنہیں ۔
2- اشتہارات (ads)میں فحش تصاویر ، بےحیا ئی اورموسیقی پر مشتمل مواد نہ ہو۔
3- اگر کسی جائز کاروبار کے اشتہار میں کوئی موسیقی یا فحش تصویر چلائی جائے اور اس میں فیسبک پیج کے مالک کی اجازت اور رضامندی شامل نہ ہو تواس صورت میں مالک کے لیےاس ایڈز کے زریعے جومخصوص کمائی حاصل کی ہے اس کو صدقہ کرناچاہیے ،تاکہ باقی کمائی اس کے لیے حلال ہوجائے ۔یہ اس صورت میں جب فحش مواد والے اشتہارات مالک کی اجازت اور رضامندی کے بغیر چلائےگئےہوں اگر اس میں مالک کی اجازت اور رضا شامل تھی تو کل آمدنی جائز نہیں ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين :(6/ 392)
(و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (4/ 450)
وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط.
رشيدخان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
05/جمادی الثانية 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


