03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سنی عورت کا شیعہ سے نکاح کا حکم
89142طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

حضرت مفتی صاحب برائے مہربانی اس مسئلہ کی ازروئے شرع وضاحت فرما دیں کہ:

1۔ ایک لڑکی سنی ہے اور لڑکا شیعہ ہے کیا ان دونوں کا آپس میں نکاح ہوسکتا ہے ؟

2۔ اگرکوئی  آدمی یہ نکاح پڑھادے تو شرعاً یہ معتبر ہوگا یانہیں؟

3۔ اگرکوئی یہ نکاح پڑھادے تو نکاح خواں اورگواہوں کا کیاحکم ہے؟ کیا یہ دائرہٴ اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1،2۔ بطورتمہید جاننا چاہیے کہ جوشخص تحریفِ قرآن، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانااور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تکفیر کامرتکب ہووہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، کذا فی احسن الفتاوی:۸/۴۰۳) اورنکاح کے جائز ہونے کے لیے لڑکا اور لڑکی دونوں کا مسلمان ہوناضروری ہے۔ لہذا اگرکسی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے شخص کا عقیدہ یہ ہوکہ قرآن کریم میں تحریف (ردوبدل) ہوئی ہے، ان کے جو بارہ امام ہیں ان کےبارے میں اس بات کا قائل ہوکہ ان کی امامت اللہ جل شانہ کی طرف سےہےاورامام گناہ سے معصوم ہے، ان کو حلال وحرام کا اختیارہے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں نعوذ باللہ غلطی ہوئی ہے، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھتاہو تواس طرح کے عقائد رکھنے والا فرد مسلمان نہیں ہے اور کسی سنی لڑکی کا اس  شخص سے نکاح جائزنہیں ہے، لہذا اگر کسی شخص نے ایسے آدمی کا نکاح پڑھا دیا تو وہ نکاح منعقد نہیں ہو گا۔

البتہ اگر اس لڑکے کا کوئی بھی کفریہ عقیدہ نہ ہو تو اس  صورت میں اگرچہ سنی لڑکی کا نکاح اس سےمنعقد ہوجائےگا، مگرچونکہ شیعہ لڑکا سنی لڑکی کا کفو نہیں ہے، اس لیےبعد میں عقائد ونظریات اور رسوم ورواج میں اختلاف کی وجہ سے فریقین کے درمیان اختلاف ہو سکتا ہے اور پھر ان کی اولاد بھی اضطراب اور پریشانی کا شکار ہو گی، اس لئے کسی صحیح العقیدہ دیندار شخص سے نکاح کرنا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ طے کرتے وقت سب سے زیادہ دینداری کا لحاظ اور خیال رکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ کیونکہ نکاح کوئی وقتی اور عارضی چیز نہیں،بلکہ زندگی بھر کے لئے ایک ساتھی کے انتخاب کا مرحلہ ہے،اس لیے اس میں خوب سوچ بچار اور سمجھداری سے کام لینا چاہیے۔

3۔ اگر لڑکا کفریہ عقائد کا حامل ہو تو کسی بھی مسلمان شخص کے لیے ایسے شخص کا نکاح پڑھانا جائز نہیں ہے، جہاں تک ایسی صورت میں نکاح پڑھانے والے شخص کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا تعلق ہے تو وہ اس وقت حکم لگے گا جب نکاح پڑھانے والے کو اس لڑکے کے کفر کا یقین ہو اور اس بات کا علم ہونے کے باوجود وہ کسی مسلمان لڑکی کا نکاح اس سے پڑھائے تو وہ شریعت کے ایک قطعی اور یقینی حکم کے انکار کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا، کیونکہ یہ اسلام کے قطعی عقائد میں سے ہے کہ کسی مشرک اور زندیق کا نکاح کسی مسلمان کے ساتھ جائز نہیں ہے۔   

اور اگر اس کے کفریہ عقائد نہ ہوں یا یہ کہ پڑھانے والے کو اس کے کفریہ عقائد کا علم نہ ہو  تو ان دونوں صورتوں میں پڑھانے والے اور گواہان پر کفر کا حکم نہیں لگے گا، البتہ نکاح پڑھانے والے کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اولا تو کسی شیعہ کانکاح پڑھانے سے اجتناب کرے اور اگر مجبوری میں پڑھانا پڑے تو ان کے عقائد کی خوب تحقیق اور اطمینان کر کے نکاح پڑھائے، کیونکہ شیعہ حضرات کے مسلک میں تقیہ کرنا بھی جائز ہے، تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اصلی عقیدہ کو چھپا کر ظاہری طو پر اپنے آپ کو صحیح العقیدہ مسلمان ظاہر کرنا۔ اور تقیہ کرنا ان کے مذہب کے مطابق دین  کا  ایک اہم جزء ہے، چنانچہ مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللہ ارشاد الشیعہ((تقیہ، ص:175) میں فرماتے ہیں:

"شیعہ اور امامیہ کے نزدیک اصل بات کو چھپانا، جھوٹ بولنا اور تقیہ کرنا خالص دین ہے،  بلکہ ان کے نزدیک دین کے نو حصے جھوٹ اور تقیہ میں  مضمر ہیں۔"

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 237) الناشر: دار الفكر-بيروت:

" لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن".

بدائع الصنائع (5/ 456) الناشر: دار الكتب العلمية:

" ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر ؛ لقوله تعالى: { ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا } ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة

في الكفر ؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه ، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل : { أولئك يدعون إلى النار } لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر ، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار ؛ لأن الكفر يوجب النار ، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما ، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة ، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة  أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي كما لا يجوز إنكاحها الوثني والمجوسي ؛ لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى : { ولن يجعلﷲ للكافرين على المؤمنين سبيلا } فلو جاز إنكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل ، وهذا لا يجوز".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2043) الناشر: دار الفكر، بيروت - لبنان:

قال الملاعلی القاری رحمہ اللہ :" («فاظفر بذات الدين») أي: فز بنكاحها. قال القاضي - رحمه ﷲ-: " من عادة الناس أن يرغبوا في النساء ويختاروها لإحدى أربع خصال عدها، واللائق بذوي المروءات وأرباب الديانات أن يكون الدين من مطمح نظرهم فيما يأتون ويذرون، لا سيما فيما يدوم أمره ويعظم خطره.

( «تربت يداك» ) يقال: ترب الرجل أي: افتقر كأنه قال: تلتصق بالتراب، ولا يراد به هاهنا الدعاء، بل الحث على الجد والتشمير في طلب المأمور به. قيل: معناه صرت محروما من الخير إن لم تفعل ما أمرتك به، وتعديت ذات الدين إلى ذات الجمال وغيرها، وأراد بالدين الإسلام والتقوى، وهذا يدل على مراعاة الكفاءة، وأن الدين أولى ما اعتبر فيها".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 46) دار الفكر-بيروت:

وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

5/جمادی الاخری1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب