03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میاں بیوی کے درمیان اختلاف کیسے دور کیا جائے؟
89140معاشرت کے آداب و حقوق کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

      میں شادی شدہ اور ایک بیٹی کا والد ہوں۔ میری شادی کو 3 سال ہوچکے ہیں۔ شادی سے پہلے میری ایک رشتہ دار سے منگنی ہوئی تھی۔ تب مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا تھا کہ میں اس سے کافی نزدیک ہوگیا۔ منگنی خاندانی وجوہات کی وجہ سے ختم ہوگئی۔ اس کے بعد مجھے اور اس لڑکی کو شرمندگی بھی ہوئی کہ ہم نے غلط کام کیا۔ اور اس غلطی کی سزا مجھے یہ ملی کہ میری بہن کو طلاق ہوگئی۔

      اس گناہ کے بارے میں کسی کو نہیں معلوم۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، توبہ کیا، مغفرت طلب کی اور رویا گڑگڑایا۔ پھر 2022 میں میری شادی ماموں کی بیٹی سے ہوگئی۔ میری زوجہ حاملہ تھی تو اسی دوران گھر میں بہن اور زوجہ کے جھگڑے ہونے لگے۔ کچھ لڑائی مجھ سے بھی ہوئی۔ اور زوجہ پر ہاتھ بھی اٹھ گیا۔ اسی دوران میری بیوی کو میرے موبائل سے وہ پرانی تصاویر مل گئیں جو منگیتر کے ساتھ اس غلط دن لی گئی تھیں۔ میں بہت شرمندہ ہوا۔ اور جیسے تیسے کر کے بیوی کو منایا۔ اب 2025 ہے اور بیوی کے بار بار کہنے پر میں اپنی بہن سے الگ ہوگیا ہوں۔ لیکن میری زوجہ اس گناہ والی بات کو یاد کر کے لڑتی ہے اور ناراض ہوجاتی ہے۔ وہ مجھ سےکہتی ہے کہ بات نہ کیا کرو، مجھ سے مت چپکا کرو اور میرے قریب نہ آیا کرو۔ وہ UBL میں جاب کرتی ہے۔ اس کی ایک لڑکے سے بات چیت ہے۔ وہ اس سے ساری باتیں کرتی ہے، مجھ سے نہیں کرتی۔ میرے پوچھنے پہ لڑائی ہوگئی کہ میں نے اسے اس لڑکے کے ساتھ  بات کرنے سے  کیوں منع کیا۔ چونکہ میں نے زنا کیا ہے تو میں سوال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

       میں طبیعت میں کم گو ہوں۔ زیادہ باتیں نہیں کرتا۔ میری زوجہ ازدواجی زندگی میں چارم اور تھرل(دل لگی اور پرجوش باتیں) چاہتی ہے اور یہ وہ خود کہتی ہے۔ میرے اوپر 6 لاکھ کا قرضہ ہے۔ اور واپس کرنے کے کوئی وسائل بھی نہیں ہیں۔ میری تنخواہ سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے،تو قرض کیسے اترے گا۔ اب آپ کی رائے چاہیے کہ میں کیا کروں، بہت بے بسی کا معاملہ ہو گیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

     1: توبہ کی اصل بنیاد  ندامت ہے،  حدیث شریف میں ندامت ہی کو توبہ کہا گیا ہے۔ جب انسان ندامت کے ساتھ گناہ چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے معافی مانگے اور آئندہ گناہ سے بچنے کا پکا ارادہ کرلے، تو اللہ تعالیٰ اسے  معاف فرما دیتے ہیں۔  آپ نے ندامت کے ساتھ توبہ کی ہے ، اللہ  تعالی سے بھرپور امید رکھنی چاہیے کہ اللہ پاک نے آپ کی توبہ قبول فرمالی ہوگی۔ اب اپنی بیوی پر واضح کریں کہ میں نے مفتی صاحب سے رہنمائی لی ہے اور سابقہ گناہ سے  سچی توبہ کرچکا ہوں۔ لیکن اپنی اس توبہ کو بحال رکھنے کے لیے مجھے آپ کی ضرورت ہے، لہذا آپ میرا ساتھ دیں۔ پھر آپ میاں بیوی دونوں کسی بزرگ کے بیان میں شریک ہوتے رہیں، تاکہ بیوی کو آہستہ آہستہ توبہ کا یقین ہوجائے۔

   2:   اجنبی شخص سے غیر ضروری بات کرنے پر  وقتا فوقتا  نرمی کے ساتھ منع کیا کریں۔ اور اسے یہ باور کرائیں کہ اجنبی مرد کے ساتھ غیر ضروری بات کرنا ایک گناہ ہے۔   اگر وہ آپ کو گزشتہ گناہ یاد دلاتی ہے تو آپ اس  کے ساتھ جھگڑنے کے بجائے اسے اعتماد میں لیں۔    اسے احساس دلائیں کہ آپ اس کو اہمیت دیتے ہیں۔   تحفہ دیا کریں  اس سے محبت بڑھتی ہے اور دلوں کے کینے دور ہوتے ہیں۔ اس طرح کرنے سے خود ہی کچھ عرصہ میں اس کا دل آپ کے ساتھ لگ جائے گا۔ 

   3: قرض  سے نجات کے  لیے اللہ تعالی سے مسلسل دعا  مانگتے رہیں۔   غیر ضروری اخراجات کم کرکے بچت کرنا شروع کردیں۔  ماہانہ تنخواہ میں سے   صدقہ کیا کریں ، صدقہ کرنے سے مال بڑھتا ہے۔ استغفار  کثرت  سے پڑھیں۔ خصوصاً  قرض سے نجات کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ کو بتلائی ہوئی درج ذیل دعا صبح و شام سات سات بار پڑھیں:

  "اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ."

سنن أبي داود  : (ج:1، ص:227، ط: مكتبه رحمانيه لاهور)

  ’’ترجمہ: یا اللہ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں فکر اور غم سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں کم ہمتی اور سستی سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں بزدلی اور بخل سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں قرض کے غلبہ اور لوگوں کے ظلم و ستم سے۔‘‘

   4: آپ کے بتانے کے مطابق آپ کی اہلیہ چونکہ UBL کنونشنل بینک کے "بزنس رسک ریویو" ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہے۔ اس بنا پر وہ سودی نظام کا حصہ بن رہی ہے، جوکہ شرعاً درست نہیں ۔ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی ملازمت UBL اسلامک بینک یا کسی بھی اسلامی بینک میں منتقل کرلے۔ تاکہ آمدنی مکمل طور پر حلال ہو اور گھر میں برکت نازل ہو۔

حوالہ جات

سنن الكبرى للبيهقي  :  (ج: 6،  ص: 280،  ط: العلمیة)

  "عن أبى هريرة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم -  قال : "تهادوا تحابوا".

جامع الترمذي  :  ( ص: 644، ط: دارالسلام)

  "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ، وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا، وَلَوْ شِقَّ فِرْسِنِ شَاةٍ."

سورة البقرة : ( 261  )

  " مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ  ."   

سنن ابن ماجة  :  (ج: 5، ص: 347، ط: دارالجیل)

  "عَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ , جَعَلَ الله لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا , وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا , وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ".

صحيح مسلم :  (ج:3، ص:1219، ط:احیاء التراث)

  "عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ ".

سید سمیع اللہ شاہ سید جلیل شاہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

07/جمادی الاخری 1447ھ       

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب