03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیت الخلاء کے نل سے ٹپکنے والے پانی کا شرعی حکم
89181پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

بعض اوقات بیت الخلاء میں پانی کے قطرے نلکے سے ٹپکتے ہیں اور ٹائل پر لگ کر کپڑے پر لگ جاتے ہیں ۔کیا یہ پانی پاک رہتا ہے ؟ یعنی کپڑے پاک رہتے ہیں یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نلکے سے ٹپکنے والا پانی جس جگہ  گر رہا ہے اگر غالب گمان یہ ہو کہ وہ جگہ نجس نہیں ہےتو وہ پانی پاک شمار ہوگا اور اگر وہ کپڑوں  پر لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں  ہوں گے۔  لیکن اگر غالب گمان ہو کہ وہ جگہ ناپاک ہےتو اس پر گرنے والا پانی بھی نجس سمجھا جائے گااور کپڑوں پر لگنے کی صورت میں کپڑےبھی ناپاک ہو جائیں گے۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني (5/ 361):

لأن الطهارة في الأشياء أصل والنجاسة عارض، فيجري على الأصل حتى يعلم حدوث العارض.

المحيط البرهاني (1/ 191):

‌سئل ‌خلف عمن ألقى حجرا ملطخا بالعذرة في نهر كبير جار، فارتفعت قطرات من الماء فأصاب ثوبه، قال: إن كان ذلك من الماء المتصل بالحجر، فسد  وإن كان من غير ذلك الماء، فلا بأس به.

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

07/جمادی الثانیۃ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب