03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جھوٹی قسم کھانے کا حکم
89134قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میرے شو ہرنے مجھے کہا ہے کہ میں اس بات پر قسم کھاؤں کہ  مجھ سے پہلے کسی مرد نے  اسے  نہیں چھوا ،جبکہ ایسا نہیں ہے۔اور میں چار  مہینے کے حمل سے ہوں ،کیا  میں اپنی اور بچے کی زندگی کو بچانے کے لیےجھوٹی قسم کھا سکتی ہوں  ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے۔اگر واقعی اضطراری حالت ہے  تو اپنی  اور بچے کی زندگی کو بچانے کے لیے توریہ کر  کے قسم  کھانے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، اس کی صورت یہ ہوگی کہ  قسم کھاتے  وقت آپ کی نیت اس زمانے کی ہو جس میں کسی مرد نے آ پ کو نہیں چھوا ۔تاہم  اضطراری حالت میں  قسم کھانے کی صورت میں  دلی ندامت کے ساتھ  استغفار ضروری ہے ۔نیز سابقہ زندگی  کی کوتاہیوں پر بھی دلی توبہ کی جائے

حوالہ جات

صحیح مسلم). (1607/1:

ایاکم و کثرۃ الحلف فی البیع، فانہ ینفق، ثم یمحق.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية )2/ 52(:

(اليمين بالله ثلاثة أنواع) غموس، وهو الحلف على إثبات شيء، أو نفيه في الماضي، أو الحال يتعمد الكذب فيه ،فهذه اليمين يأثم فيها صاحبها، وعليه فيها الاستغفار، والتوبة دون الكفارة.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي ) 5/ 60(:

(فالغموس هو الحلف على أمر ماض يتعمد الكذب فيه، فهذه اليمين يأثم فيها صاحبها) لقوله صلى الله عليه وسلم :من حلف كاذبا أدخله الله النار:(ولا كفارة فيها إلا التوبة والاستغفار).

کتاب  القواعد الفقھیہ  و تطبیقاتھا  فی المذاھب الا ربعہ  219/1).

٤ - الضرر الأشد يُزال بالضرر الأخف (م/٢٧)

الفتاوی الھندیہ ،(407/1):

ويكره التعريضُ بالكذب إلا لحاجة ،كذا في خزانہ المفتین.

سلیم  اصغر بن محمد اصغر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

7/جمادی الثانیہ  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب