03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کھوئے ہوئے رشتے کی واپسی کے لئے دعا کرنا کیسا ہے؟
89126متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

ہماری منگنی تقریباً دو سال جاری رہی۔ کچھ مہینے پہلے یہ رشتہ ختم ہوگیا۔ اس لڑکی نے حجاب چھوڑ دیا تھا، جس کی وجہ سے ہمارے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ وہ پہلے بھی مکمل حجاب نہیں کرتی تھی، لیکن مجھ سے محبت کی وجہ سے اُس نے کچھ وقت کے لیے حجاب اختیار کیا تھا۔ اس کے گھر کا ماحول بھی اس حوالے سے معاون نہیں تھا۔ میری صرف یہ خواہش تھی کہ لباس مناسب ہو، اور غیر محرم مردوں سے گفتگو میں حیا اور شرعی حدود کا خیال رکھا جائے۔ لیکن جب اُس نے بالکل حجاب ترک کردیا تو میں نے اس کے والد کو پیغام بھیج کر رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

 بریک اپ کے دوران ایک مدت میں اس نے دوبارہ حجاب شروع کیا تھا، مگر اب وہ مکمل طور پر اسے چھوڑ چکی ہے۔ میری پریشانی یہ ہے کہ مجھے صبر نہیں آرہا۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنی غلطی محسوس کرے اور واپس لوٹ آئے۔

    اب سوال یہ ہے کہ مجھےسمجھ نہیں آتی کہ کیا میں نے صحیح کیا یا غلط؟ مجھے صبر کیوں نہیں آرہا؟ کیا میں اس کی واپسی اور ہدایت کے لیے دعا کرسکتا ہوں؟ کیا اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھنا درست ہے کہ وہ اسے صحیح راستے اور میری طرف واپس پلٹا دے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دعاءکرنے میں تو کوئی حرج نہیں وہ کسی کے لیے بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ اب بھی یہیں نکاح کے خواہشمند ہیں اوریہ امید ہے کہ وہ آپ کے نکاح میں آکر پردہ شروع کردےگی اور سمجھانے سے سمجھ جائےگی،تو ان کے گھروالوں سے رابطہ کرکے نکاح کرلیا جائےاور اگر غالب گمان یہ ہےکہ وہ نہیں مانےگی تو پھر اسی جگہ نکاح کرنا مناسب نہ ہوگا۔

حوالہ جات

سورۃ الفرقان ، آیت  (74)

"رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا"

سورۃ القصص ، آیت  (24)

"رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ"

    سورۃ فصلت ، آیت (33)

   "وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا"

   صحيح البخاري - ط الشعب (7/ 9)

   عن أبي هريرة ، رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : تنكح المرأة لأربع : لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها ، فاظفر بذات الدين ، تربت يداك.

   سنن الترمذي ت شاكر (5/ 539)

  عن أنس بن مالك، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا كربه أمر قال: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث»

محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

07/جماد الاخری 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب