| 89287 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک عورت مری جس کے ورثاء میں دو علاتی(باپ شریک) بہن کے اولاد جن میں سے ایک علاتی بہن کے چار بیٹے چار بیٹیاں ہیں اور دوسری علاتی بہن کا ایک بیٹی ہے اور ایک اخیافی(ماں شریک) بھائی کے آٹھ اولاد جن میں سے پانچ لڑکے تین لڑکیاں ہیں فقہ حنفی کے مفتی بہ قول کے مطابق میراث کس طرح تقسیم ہوگی، جزاکم اللہ خیرا کثیرا۔
وضاحت: سائل سے تصدیق کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا اور نہ ہی اس نے ورثاء کی فہرست میں علاتی بہن اور اخیافی رشتہ داروں کو شامل کیا ہے، اس لیے حساب کی غرض سے یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ یہ رشتہ دار میّت سے پہلے ہی فوت ہو چکے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ عورت نے انتقال کے وقت جوجائیداد،نقد رقم، سونا، چاندی، مکان، کاروبار ، راشن، ضرورت کی اشیاء، فرنیچر و برتن اور کپڑے وغیرہ غرض جو کچھ چھوٹا بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، وہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔
اس کے بعد فیصدی اعتبار سے ماں شریک بھائی کے ہر بیٹے اور بیٹی کو% 4.1666 جبلہ باپ شریک بہن کے ہر بیٹی کو% 5.1282 اور باپ شریک بہن کے ہر ایک بیٹے کو% 10.2564 ملے گا۔
|
ورثہ |
ماں شریک بھائی کا بیٹا |
ماں شریک بھائی کی بیٹی |
باپ شریک بہن کی بیٹی |
باپ شریک بہن کا بیٹا |
|
عددی حصہ |
13 |
13 |
16 |
32 |
|
فیصدی حصہ |
% 4.1666 |
% 4.1666 |
5.1282% |
10.2564% |
حوالہ جات
النساء:11
يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين، فان كنا نسآء فوق اثنتين فلهن ثلثاما ترك.
النساء:12
وإن كان رجل يورث كلالة أو امراۃ وله أخ أو أخت فلكل واحد منهم السدس، فإن كانوا أكثر من ذلك فهم شركاء في الثلث من بعد وصيۃ یوصی بها او دين غير مضار وصية من الله، والله عليم حكيم.
رد المحتار(551/10)
وجملة القول فيه كما في الصنف الأول، وهو أنهم إما أن يتفاوتوا في الدرجة أو لا، فإن تفاوتوا قدم الأقرب ولو أنثى كبنت أخت وابن بنت أخ ، وإلا فإما أن يكون بعضهم ولد وارث أو كلهم أو لا ولا ؛ والمراد بالوارث هنا ما يشمل العصبة، ففي الأول قدم ولد الوارث كبنت ابن أخ وابن بنت أخت كلاهما لأبوين أو لأب مختلفين، وفي الأخيرين : أي ما إذا كان كلهم أولاد وارث هو عصبة كبنتي ابني الأخ لأبوين أو لأب أو ذو فرض كبنات أخوات متفرقات أو أولاد ،وارثين أحدهما عصبة، والآخر: ذو فرض كبنت أخ لأبوين أو لأب وبنت أخ لأم، وما إذا لم يكن فيهم ولد وارث كبنت ابن أخ وابن أخت كلاهما لأم عند أبي يوسف يعتبر الأقوى في هذه الصور ثم يقسم على الأبدان للذكر ضعف ما للأنثى، فمن كان أصله أخاً لأبوين أولى ممن كان أصله أخاً لأب فقط أو لأم فقط، ومن لأب أولى ممن لأم. وعند محمد، وهو الظاهر من قول أبي حنيفة : يقسم المال على الأصول : أي الإخوة والأخوات مع اعتبار عدد الفروع والجهات في الأصول، فما أصاب كل فريق يقسم بين فروعهم كما في الصنف الأول…
ظہوراحمد
دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی
8جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


