03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
currency ادھار میں غیر ملکی کرنسی (ڈالر) کی خرید و فروخت کا شرعی حکم
89215جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

موضوع: ادھار میں غیر ملکی کرنسی (ڈالر) کی خرید و فروخت کا شرعی حکم صورتِ مسئولہ: زید ایک پاکستانی تاجر ہے جو چائنہ سے مال امپورٹ کرتا ہے۔ اسے چائنیز کمپنی کو امریکی ڈالر بھیجنے ہوتے ہیں۔زید نے ایکسچینج کمپنی سے معاہدہ کیا کہ وہ کمپنی زید کی طرف سے چائنیز کمپنی کے اکاؤنٹ میں ڈالر بھیجے گی، اور اس کے بدلے زید پاکستانی روپے دو ماہ بعد طے شدہ ریٹ پر ایکسچینج کمپنی کو ادا کرے گا۔ایکسچینج کمپنی ڈالر فوراً چائنیز کمپنی کو بھیج دیتی ہے، اور زید کو ایک انوائس دیتی ہے جس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ ”ہم نے آپ کی طرف سے اتنی رقم (USD) چین بھیجی ہے، اور آپ دو ماہ بعد اتنے روپے ادا کریں گے۔“ اس میں کوئی واضح سود (interest) یا اضافی رقم بطور تاخیر کا معاوضہ درج نہیں ہوتی۔ بس ادائیگی کی مدت (دو ماہ) طے ہوتی ہے اور ریٹ بھی معاہدے کے وقت فکس کر دیا جاتا ہے۔ سوال: کیا شرعی نقطۂ نظر سے یہ طریقہ کار جائز ہے؟ یعنی ایکسچینج کمپنی کا زید کو ڈالر فراہم کر کے بعد میں روپے لینا طے شدہ ریٹ پر دو ماہ کی ادھار ادائیگی پر کیا یہ صورت بیعِ صرف (currency exchange) کے شرعی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں، تو شریعت کے مطابق اس کا درست متبادل کیا ہو سکتا ہے؟ تکمیلی وضاحت (زید کی طرف سے): ڈالر فوراً چین کمپنی کو بھیج دیے جاتے ہیں، زید کو نقد ڈالر نہیں ملتے۔انوائس میں کوئی اضافی فیس یا سود شامل نہیں۔ صرف مقررہ مدت میں روپے ادا کرنے کی شرط ہوتی ہے۔ براہِ کرم اس صورت پر شرعی تجزیہ فرما کر واضح فرمائیں کہ آیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟ اگر ناجائز ہو تو اس کو شریعت کے مطابق کس طرح درست کیا جا سکتا ہے؟ نام: ..............................پیشہ: امپورٹ بزنس (چائنا سے سامان) تاریخ: 03-11-2025

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں زید اور ایکسچینج کمپنی کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے، اسے شرعی طور بیع کا معاملہ کہا جاتا ہے۔ جب کرنسیاں مختلف الجنس ہوں تو اس کی بیع کے درست ہونے کے لیےدو شرطیں ضروری ہیں:

1۔ کسی ایک کرنسی پر  مجلسِ عقد میں  قبضہ  ہو۔

2۔ معاملہ مارکیٹ ریٹ پر ہو،مارکیٹ ریٹ سے کمی یا زیادتی جائز نہیں، بلکہ اس میں ربا کا اندیشہ ہے۔

چنانچہ  جب یہ دونوں شرائط پوری ہوں، تو زید کا یہ معاہدہ کہ ایکسچینج کمپنی اس کی طرف سے چائنیز کمپنی کو ڈالر منتقل کرے اور زید دو ماہ بعد پاکستانی روپے ادا کرے، شرعی طور پردرست اور جائز  ہوگا ۔لیکن سوال میں ذکر ہے کہ ریٹ معاہدے کے وقت طے کیا جائے گا اگر یہ ریٹ مارکیٹ کے مطابق ہے تو ٹھیک ورنہ یہ عقد جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص432):

(‌باع ‌فلوسا ‌بمثلها ‌أو ‌بدراهم ‌أو ‌بدنانير، ‌فإن ‌نقد ‌أحدهما ‌جاز)

مشروع القانون الاسلامی للبیوع والدیون) 22،23):

النقود الورقیۃ لایجوز مبادلتھا بالتفاضل اوالنسیئۃ فی جنس واحد،اما اذااختلف جنسھما مثل ان تباع الربیات الباکستانیۃ بالریالات السعودیۃ فیجوز فیھا التفاضل وتجوز فیہ النسیئۃ بشرط ان یقبض احدالعاقدین مااشتراہ وان کان الآخر مؤجلا وبشرط ان یکون التبادل بسعر یوم العقد ۔

(بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ:1/178،179):

ولکن جواز النّسیئۃ فی تبادل العُملات المختلفۃ یمکن أن یتّخذ حیلۃ لأکل الربا،فمثلا:إذا أراد المقرض أن یطالب بعشر ربیّات علی المئۃ المقرضۃ،فإنہ یبیع مئۃ ربیۃ نسیئۃ بمقدار من الدولارات التی تساوی مئۃ وعشر ربیّات.وسدّاً لہذا الباب،فإنہ ینبغی أن یُقیّد جواز النّسیئۃ فی بیع العُملات أن یقع ذلک علی السّعر السّوق السّائد عند العقد.

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

10/06/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب