| 89169 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
ایک عالم جوکہ صاحبِ نصاب نہیں وہ کسی سے کہتاہے کہ ایک عالم ضرورت مند ہے، مستحق ہے، اگرآپ تعاون کریں تو بہترہوگا، دل میں اپنے آپ کو ہی مراد لیاہے، تواب یہ رقم اپنے لیے استعمال کرسکتاہے یا نہیں؟ یہ طریقہ سوال کی وعید سے بچنے کے لیے کرتے ہیں۔ کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں یہ شخص ادائیگی زکوۃ کا وکیل ہے،اس کے لیے یہ رقم اپنے تصرف میں لانا جائز نہیں ، الا یہ کہ موٴکل نے یہ کہہ دیا ہو کہ ”جہاں چاہے صرف کرلو“اس صورت میں اگر یہ شخص خود مستحق ہو تو زکوة کی رقم خود بھی استعمال کر سکتا ہے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 269):
وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت، ولو تصدق بدراهم نفسه أجزأ إن كان على نية الرجوع وكانت دراهم الموكل قائمة.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 305):
لو قال لرجل ادفع زكاتي إلى من شئت أو أعطها من شئت فدفعها لنفسه لم يجز وفي جوامع الفقه جعله قول أبي حنيفة وقال وعند أبي يوسف يجوز ولو قال ضعها حيث شئت جاز وضعها في نفسه وقال في المرغيناني وكل بدفع زكاته فدفعها لولده الكبير أو الصغير أو زوجته يجوز ولا يمسك لنفسه.
محمدطلحہ فلک شیر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/جمادی الثانیۃ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طلحہ ولد فلک شیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


