| 89180 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میں نے ایک کمپنی میں نفع کےلیے پیسے دیے ہوئے ہیں یہ کمپنی ہر ماہ مجھےنفع دیتی ہے اس کمپنی کے درج ذیل کاروبار ہیں:گاڑیوں کی خرید وفروخت،پراپرٹی کا کاروبار،مختلف کمپنیوں کے پراجیکٹس کی (شریعت کے مطابق) تشہیر،ریسٹورنٹ(جس میں گانے بجانا ممنوع ہے)،ای گیمنگ(پب جی گیم وغیرہ اس میں مختلف پلیرز کو تنخواہ پر رکھا گیا ہے جو کمپنی کیلئے ٹورنامنٹس کھیلتی ہیں لیکن اس گیم میں کسی قسم کی شرط نہیں لگائی جاتی اور نہ ہی شریعت کے خلاف کوئی کام ہوتا ہے)،وال مارٹ کا کاروبار،ٹوررزم کا کاروبار،کیامذکورہ کمپنی کےساتھ عقدمضاربت جائز ہے یا نہیں۔
تنقیح:سائل سےفون پررابطہ ہواانہوں نے کچھ دستاویزارسال فرمائے ہیں ایک دستاویزایف بی آ(Federal Board of Revenue)سےمتعلق ہے جو کمپنی کا ٹیکس اسٹیٹس بتاتا ہےیعنی کمپنی ایف بی آر کے ریکارڈ میں ایک فعال ٹیکس دہندہ ہے۔دوسری دستاویزسیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کا بنیادی سرکاری سرٹیفکیٹ ہے، جس کامقصد کہ کمپنی قانونی طور پر رجسٹرڈ ہےاورنیچے ڈسکلیمر بھی ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ عوام سے ڈیپازٹ یا انویسٹمنٹ لینے کی اجازت نہیں دیتا۔تیسری قسم کی دستاویزمیں کمپنی اور کسی فرد کے درمیان سرمایہ کاری / شراکت داری کی شرائط بیان کی گئی ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی کمپنی کے ساتھ بطور مضاربت انویسٹمنٹ کرنے کے لیےقانونی طور پر ضروری ہے کہ وہ SECP میں fund seekingکمپنی کے طورپررجسٹرڈ ہویعنی اسےقانونی طور پر عوام سے سرمایہ لینے کی اجازت ہو۔
سوال میں مذکورہ کمپنیSECP کی ویب سائٹ پر بطورسنگل ممبر کمپنی رجسٹرڈ ہے۔قانون کے مطابق ایسی کمپنیوں کو عوام سےبطورمضاربت پیسے لینے کی اجازت نہیں ہوتی(جیساکہSECPکی طرف سے اس کمپنی کو جاری کردہ سرٹیفیکیٹ میں بھی اس بات کی وضاحت موجود ہے)۔ ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کار کے حقوق کاقانونی تحفظ موجود نہیں،نیزکسی قانونی کارروائی یا نقصان کی صورت میں سرمایہ پھنس جانے کا قوی اندیشہ رہتاہے،لہذاعوام کو ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرناچاہیے۔
حوالہ جات
[النساء: 59]:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي الأ مرمِنكُم .
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/100):
ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا، فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب.
Companies act 2017:
(49) “private company” means a company which, by its articles-
(C) prohibits any invitation to the public to subscribe for the shares, if any, or debentures or redeemable capital of the company.
Companies act 2003:
“single member company” or “SMC” means a private company which has only one member.
10. “XYZ (SMC-Private) Limited ” to be the pattern and style of the name of a single member company.
(3) On change of status of a single member company into a private company, the registrar concerned shall issue a certificate in the form as set out in Form S7 omitting the letters and hyphen “SMC-” from part of the name of the single member company.
The company is a single member company and as such being a Private Company limited by shares—
(a) it shall not issue invitation to the public to subscribe for any share of the company.
(b) the company shall not register any share(s) in the name of two or more persons to hold one or more shares individually or jointly.
(c) number of the members of the company shall be limited to one.
عزیزالرحمن
دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی
11/ جمادی الآخرۃ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


