03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
استعمال کے لیے دی گئی کمپنی کی گاڑی کو تجارتی مقاصد میں لگانے کاحکم
89191امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں۔ کمپنی نے مجھے دفتر کے کاموں کے لیے ایک گاڑی مہیا کی ہوئی ہے، اور اس کے ساتھ ماہانہ پیٹرول کی ایک مقررہ حد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ کمپنی کی پالیسی کے مطابق اس گاڑی کو ذاتی استعمال میں لانے کی بھی اجازت ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا کمپنی کی فراہم کردہ اس گاڑی اور پیٹرول کو استعمال کرتے ہوئے میں InDrive / ان ڈرائیو ایپلیکیشن کے ذریعے کمائی کرسکتا ہوں؟ یعنی کیا شرعاً کمپنی کی گاڑی کو استعمال کرتے ہوئے اس طرح آمدن حاصل کرنا جائز ہے، جبکہ گاڑی اور فیول کمپنی کی ملکیت ہیں؟ آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اپنے معاملات کو شریعت کے مطابق چلا سکوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کمپنی کی فراہم کردہ گاڑی اور پیٹرول، جو دفتر کے کاموں اور محدود ذاتی استعمال کے لیے دیے گئے ہوں، انہیں InDrive یا کسی بھی تجارتی مقصد کے لیے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔ کیونکہ ملازم کو کمپنی  کی چیزیں صرف اُسی حد تک استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے جس کی صراحتاً یا عرفاً اجازت ہو، اور تجارتی استعمال عام عرف میں شامل نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني (5/ 556):

ليس للمستعير أن يؤاجر المستعار من غيره، وإذا آجر صار ضامنا.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 364):

ليس للمستعير أن ‌يؤاجر ‌المستعار من غيره.

العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي (9/ 9):

وليس للمستعير أن يؤاجر ما استعاره؛ فإن آجره فعطب ضمن.

   محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

11/جمادی الثانیۃ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب