| 89194 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
علاقے کے ایک اسٹور نے یہ اسکیم شروع کی ہے کہ جو شخص 1500 روپے یا اس سے زیادہ کی خریداری کرے گا، اس کا نام “Lucky Draw” میں شامل کیا جائے گا، اور قرعہ اندازی کے ذریعے درج ذیل انعامات دیے جائیں گے: • پہلا انعام: 15000 روپے کے گروسری سامان کا، • دوسرا انعام: 10000 روپے کے سامان کا، • تیسرا انعام: 5000 روپے کے سامان کا۔ شرط یہ ہے کہ قرعہ اندازی میں صرف وہی افراد شامل ہوں گے جنہوں نے کم از کم 1500 روپے یا اس سے زیادہ کی خریداری کی ہو۔ پوچھنا یہ ہے کہ: کیا اس طرح کی “Lucky Draw” یا انعامی اسکیم شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ اور اگر ناجائز ہے تو اس کی شرعی وجہ کیا ہے؟ نیز، اگر کوئی جائز طریقہ ہو تو وہ کیا ہوسکتا ہے.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکوردکانداراگر سامان کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے حساب سے مقرر کرے ، یعنی اس سامان کی قیمت میں قرعہ اندازی کی وجہ سےکوئی اضافہ نہ کیا گیا ہو اور مصنوعات کا معیار بھی کم نہ ہو، جس سے خریدار کو دھوکہ اور نقصان ہو تو یہ انعامی اسکیم جائز ہے۔ اور اس کے ذریعہ ملنے والا انعام دوکاندار کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا اور کسٹمر کے لیے اس انعام کا لینا جائز ہوگا۔اور اگر 1500کے بدلے ملنے والے سامان کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے حساب سے اتنی نہ ہو ،بلکہ قرعہ اندازی میں شریک کرنے کے لیے قیمت میں اضافہ کیا گیا ہو تو یہ معاملہ جوئے (قمار) کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہو گا ۔
حوالہ جات
(المائدة: 90)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الخمر وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔
("بحوث في قضايا فقهية معاصرة 2 :239)
وبما أن حقيقة الجائزة أنها هبة بدون مقابل ، فانها ليست من عقود المعاوضة، وانما من قبيل التبرعات، فمن شروط جوازها أن تكون تبرعاً من المجيز بدون أن يلتزم المجاز بدفع عوض مالى مقابل الجائزة - - - الجوائز على شراء المنتجات - - - - - وإن حكم هذه الجوائز أنها تجوز بشروط: الشرط الاول: أن يقع شراء البضاعة بثمن مثله، ولا يزاد في ثمن البضاعة من أجل احتمال الحصول على الجوائز وهذا لأنه إن زاد البائع على ثمن المثل فالمقدار الزائد إنما يدفع من قبل المشترى مقابل الجائزة المحتملة فصارت الجائزة بمقابل مالى فلم يبق تبرعا وإن هذا المقابل المالى إنما وقع المخاطرة فصارت العملية قمارا، أما إذا بيعت البضاعة بثمن مثلها، فإن المشترى قد حصل على عوض كامل للثمن الذي بذله، ولم يخاطر بشئ فالجائزة التي يحصل عليها جائزة بدون مقابل، فيدخل في التبرعات المشروعة .
المعاملات المالية اصاله ومعاصرة : (۳۳۰/۳)
فلأن هذه الجوائز إذا قسمت عن طريق القرعة، قد يأخذ من أقرض مبلغا قليلاً، جائزة قيمتها مرتفعة جداً، ويأخذ من أقرض مبلغا كبيرًا، جائزة قيمتها قليلة ويدفع طمع الناس بالحصول على الجوائز المرتفعة إلى شراء هذه السندات، وهذا واضح فيه القمار والميسر".
عادل ارشاد
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/جمادی ا لاخری /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


