03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی کو صرف سرمایہ کاری کا کہنے سے کیا وہ شخص ضامن بن جاتا ہے(“مضاربت میں نقصان کی ذمہ داری اور ضمانت کا حکم”)
89167کفالت (ضمانت) کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے بھائی کے پاس ایک لیبارٹری تھی۔ جس میں وہ مختلف اسپتالوں میں کلکشن پوائنٹ بنا کر وہاں سے ٹیسٹ لیتا تھا۔اس کام کے لیے اس نے مختلف سرمایہ کاروں کے ساتھ کام کیا تھا ۔زید کے دوست بکر نے زید کے ریفرنس اور اس کے منہ پر زید کے بھائی کے ساتھ لیب میں انویسٹمنٹ کی۔ ہر مہینہ اچھا منافع آرہا تھا۔ تو بکر نے مزید اپنے جاننے اور برادری والوں کی بھی انویسٹمنٹ کروائی۔جس کا منافع بھی کافی عرصہ چلتا رہا۔ زید نے بکر سے کہا تھا کہ آپ جن سے بھی پیسے لے رہے ہیں انہیں مضاربت کے شرعی مسائل ضرور بتادیجیے گا کہ یہ مضاربت ہے کوئی قرض نہیں۔کافی عرصے تک اچھا منافع بکر کو مل  رہا تھا، اسی وجہ سے اس نے مزید سرمایہ کاری کروائی۔

پھر اچانک زید کو علم ہوا کہ زید کے بھائی نے بہت سے لوگوں سے سود پر پیسا اٹھایا ہوا ہے، اور اپنی کمائی سے سود بھر رہا ہے، جب بہت زیادہ سود ہوگیا، اور بھرنا مشکل ہوا، تو زید کے بھائی نے زید کو یہ صورت حال بتائی۔ اور اسی وجہ سے پھر زید کے بھائی کوجو پروفٹ آرہا تھا وہ آگے دینے کے بجائے اپنا سود بھر رہا تھا، اور زید اپنے پاس سےاپنے ریفرنس سے آنے والوں کو پروفٹ ہر ماہ دیتا تھا۔ ا س نے بکر اور اس کے علاوہ جو سرمایہ کار تھے ان کے سامنے سب صورت حال رکھ دی کہ بھائی پر بہت قرضہ ہے، اور میں اس کی طرف سے پروفٹ نہیں بھر سکتا ، آپ یہ معاملہ ختم کرو،  اور اپنے پیسے مجھ سے وصول کر لو، باقی بھائی جانے اور اس کا قرضہ جانے ۔اس پر بکر نے کہا کہ ہم آپ کے بھا ئی کا قرضہ اتار دیتے ہیں،   ہمیں چند ماہ کا وقت دے دیں ، تاکہ ہم پیسوں کا بندوبست کرلیں، لیکن پھر بعد میں بکر اپنی بات سے مکر گیا،  اور زید سے اپنے پیسوں اور ہر ماہ کے منافع کا مطالبہ کرنے لگا۔

  اب زید بکر کو یہ  کہتا ہے کہ بھائی میرے منہ پر پیسے دینے پر مجھ پر کوئی رقم دینا لازم نہیں۔نیز اگر میں ضامن ثابت بھی ہوں ، تو ضمانت اس چیز کی ہوتی ہے کہ بندہ پیسے لے کر بھاگے گا نہیں، اس چیز کی ضمانت نہیں ہوتی کہ نقصان نہیں ہوگا، جب لیب ختم ہوگئی، تو آپ کی رقم بھی گئی، لیکن زید یہ کہتا ہے کہ مجھ پر نہ شرعا یہ رقم دینا لازم ہے نہ قانونا،سارے معاہدے لیب والے بھائی کے ساتھ ہی تھے، بس چہرہ زید کا تھا،۔لہذا زید کہتا ہےمجھ پر  لازم کچھ نہیں لیکن اخلاقا،کیونکہ آپ نے میرے چہرے پر پیسے لگائے تھے، تو آپ کا ایک ایک روپیہ واپس ہوگا، لیکن اس کے لیے انتظار کرنا ہوگا، کیونکہ زید کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں،  وہ ویسے ہی سب کچھ بیچ کر اپنے بھائی کاقرضہ ادا کرچکا ہے، صرف ایک گھر ہے جس کی رقم دینا اب بھی باقی ہے۔لیکن بکر بضد ہے اپنا گھر بیچ کر پیسے ادا کرو۔ میں بھائی کو نہیں جانتا۔زید کہتا ہے کہ جس وقت میرے حالات صحیح تھے، اور میں آپ کو رقم دے رہا تھا، اس وقت آپ نے نہیں لی، بلکہ کہا کہ بھائی کا قرضہ اتارتے ہیں، اب میرے پا س دینے کے لیے نہیں، بکر کہتا ہے مجھے نہیں پتہ تھاکہ  قرضہ بہت   زیادہ ہے  ورنہ میں منع کردیتا۔ بکر کا کہنا یہ ہے کہ میں نے رقم زید کے منہ پر دی ہے، بھائی سے کوئی لینا دینا نہیں، نقصان بھائی کی وجہ سے ہوا ہے ،  وہ تاوان دے،بلکہ سارے پیسے زید دے،اور ہر ماہ منافع بھی دے۔

 ان تمام تر صورت حال میں  1) ( کیا زید پر یہ رقم دینا لازم ہے کیا وہ ضامن ہے؟ جبکہ بھائی کے معاملات کا اسے بھی علم نہیں تھا ۔اس نے فقط ریفر کیا، اور شروع کی سرمایہ کاری بکر نے خود اپنی مرضی سے کی، ہاں قرضہ کے بعد زید نے کہا  تھا کہ ٹھیک ہے آپ  قرض اتار دو ، لیکن یہ آپشن بھی دیا تھا کہ اپنی رقم لےلو ، اور بھائی کے معاملات چھوڑ دو۔

2)  )کیا بکر اپنی رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے یا نہیں، حالانکہ کاروبار میں نقصان ہوچکا ہے، بکر کا دعوی یہ ہے کہ نقصان بھائی کی وجہ سے ہوا۔ جبکہ زید کہتا ہے کہ نقصان سے بھائی کے معاملات کا کوئی لینا دینا نہیں، بھائی کے معاملات یہ تھے کہ وہ سود میں پھنس گیا، یہی اتارنے کے لیے اس کی ساری کمائی سود میں گئی، اور سینٹر بیچ کر بھی اس نے سود اتارے، باقی سینٹر تو کچھ گورنمنٹ نے سیل کردیے اور کچھ اسپتا ل والے ہی فرار ہوگئے۔اگر بکر کی رقم بنتی ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر ہے زید کےبھائی پر یا زید پر؟ نہ زید کہیں بھاگا ہے اور نہ زید کا بھائی اور نہ وہ رقم دینے سے انکاری ہے، بلکہ صرف وقت کی بات کررہے ہیں۔ زید  اب بھی یہی کہہ رہا ہے کہ آپ کے پیسے اگرچہ شرعا نہیں بنتے، لیکن ہم دے دیں گے، اور اب صرف اصل رقم ملے گی وہ بھی تھوڑی تھوڑی۔

3)  (اگر زید یا ان کے بھائی پر یہ تمام رقم شرعا لازم ہوتی ہے، تو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مہلت دینا بکر پر لازم ہے یا نہیں؟ اس تمام صورت حال کا شرعی حل ارشاد فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سوال میں ذکر کردہ صورتحال حقیقت پر مبنی ہے  تو :

(1)بکر کا زید کو محض اس بات پر کہ اس نےان کو  اپنے بھائی کا حوالہ دیا تھا ضامن  ٹھہرانا صحیح نہیں۔ لہذا  صورت مسئولہ میں زید کو خود اپنے مال میں سے بکر کو ادائیگی لازم نہیں ،البتہ بکر نے چونکہ زید کے توسط سے ان  کے بھائی کے ساتھ سرمایہ کاری کی تھی، اس وجہ سے زید اس بات کا پابندہے کہ بکر کو  ان کی رقم اپنے بھائی سے دلوائے۔

(2)اسی طرح زید نے جب بکر اور دیگر سرمایہ کاروں کو اپنے   بھائی  کی تعدی اور کاروبار کی تمام   صورت حال سے آگاہ کردیا تھا،تو اسی وقت سے مضاربت ختم   ہوگئی تھی، لہذا  اس وقت جتنا سرمایہ موجود تھا ،اس کی ادائیگی  زید کے بھائی کے ذمہ لازم ہے ۔   

(3) اگر زید یا ان  کے   بھائی  تنگدستی کی وجہ سے بکر سے پیسوں کے معاملے میں مہلت  کا مطالبہ کریں، تو  بکر کا ان كو مہلت دینا  شرعا مطلوب  اور باعث اجر ہے۔ البتہ اگر یہ ثا بت ہو جائے کہ محض ٹال مٹول  کرنے کی وجہ سے ادائیگی میں تاخیر کر رہے ہیں  تو بکر اور دیگر سرمایہ کاروں کوان سے سختی سے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار ط:  الحلبي (5/ 281):

"وشرعا (ضم ذمة) الكفيل (إلى ذمة) الأصيل (في المطالبة مطلقا) بنفس أو بدين أو عين."

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 200):

"المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه قبضه بأمر مالكه لا على وجه البدل والوثيقة، وهو وكيل فيه لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه، وإذا ربح فهو شريك فيه لتملكه جزءا من المال بعمله، فإذا فسدت ظهرت الإجارة حتى استوجب العامل أجر مثله، وإذا خالف كان غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره."

 بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع»(6/ 113):

"وتبطل ‌بهلاك ‌مال ‌المضاربة في يد المضارب قبل أن يشتري به شيئا في قول أصحابنا؛ لأنه تعين لعقد المضاربة بالقبض فيبطل العقد بهلاكه كالوديعة، وكذلك لو استهلكه المضارب أو أنفقه أو دفعه إلى غيره، فاستهلكه  لما قلنا."

قال الله تعالى:  ﵟوَإِن كَانَ ذُو عُسۡرَةٖ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيۡسَرَةٖۚ ﵞ [البقرة: 280] 

أحكام القرآن للجصاص ط : العلمية (1/ 580):

"أن يكون المراد الندب والإرشاد إلى إنظاره بترك لزومه ومطالبته."

 سنن الترمذي ط: دار الرسالة العالمية (3/ 150):

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أنظر معسرا أو وضع له، أظله الله يوم القيامة تحت ظل عرشه، يوم لا ظل إلا ظله."

محمد جمال

دار  الافتاء جامعۃ الرشید

7/جمادی الثانیہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب