03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیوہ اور تین بھائیوں میں میراث کی تقسیم
89273میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرا بڑابھائی زمان شاہ راشدی سنی حنفی مکتہ فکر جولائے 2025 کو فوت ہوگیا ہے۔ رشتہ داروں میں ایک بیوی تین زندہ اور دو پہلے سے وفات شدہ بھائی جن کی اولاد زندہ ہے چھوڑے ہیں۔ والدین زندہ نہیں۔ سوال ہے ان میں سے کون کون کتنے فی صد کے حصہ دار ہونگے۔ والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اورمرحوم کاوہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب الادء ہو،یہ سب  مرحوم کا ترکہ ہے۔ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن  کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں۔البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے تبرعاً (خوش دلی سے بغیر مطالبہ کے) ادا کر دیے ہوں تو ترکہ سے انہیں منہا نہیں کیا جائے گا۔اس کے بعد مرحوم کے ذمے جو بھی واجب الاداء قرض ہو، وہ ادا کیا جائے۔پھر ترکہ کے ایک تہائی(1/3) حصے تک مرحوم کی جانب سے غیر وارث کے لیے کی گئی جائز وصیت پر عمل  کیا جائے گا۔ اس ترتیب کے بعد باقی ماندہ ترکہ کے چار حصے کرکے ایک حصہ بیوی کو اور ایک ایک حصہ  ہر موجود (حیات) بھائی کو دیا جائے ۔ جو بھائی فوت ہوچکے ہیں اُن کو یا اُن کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا ۔

حوالہ جات

شرح مختصر الطحاوي للجصاص (4/ 83):

 (وللمرأة من ميراث زوجها الربع إذا لم يكن له ولد، ولا ولد ابنٍ، فإن كان له ولد، أو ولد ابنٍ، وإن سفل: فلها الثمن).وذلك لقول الله تعالى: +‌ولهن ‌الربع ‌مما ‌تركتم إن لم يكن لكم ولد.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 451):

‌فالعصبة ‌نوعان: ‌نسبية ‌وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب ثم عم الأب لأب وأم ثم عم الأب لأب ثم ابن عم الأب لأب وأم، ثم ابن عم الأب لأب ثم عم الجد، هكذا في المبسوط.

الد ر المختار  (6/ 774):

ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی    

11 /جمادی الآخرۃ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب