03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکاۃ کی رقم مسجد خریدنے میں لگانا
89179وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

عرض ہے کہ ہمارے مدرسے کے ساتھ جگہ فروخت ہورہی تھی، تورئیسِجامعہ   نے وہ زمین جامعہ کے مسجد کے نام سے خریدی اور انتظامیہ نے کہا جگہ مسجد کے لئے وقف ہوگی اور اس کی انتظامیہ جامعہ کی طرف سے ہوگی اور اس مسجد میں طلبہ کی مسجد کی ضرورت بھی پوری ہوگی۔ اب سوال یہ کہ اس صورت میں جامعہ کا موجودہ فنڈ جس میں کافی حصہ زکاۃ کاہے، لگایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ یعنی یہ فنڈ والی رقم جو کہ زیادہ تر زکاۃ ہی کے مد میں آئی ہے کیا اسے زمین خریدنے میں خرچ کرنا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔

تنقیح:سائل سے رابطہ ہواجو انتظامیہ کا ایک فرد ہے ،انتظامیہ کی طرف سے مسئلہ کی وضاحت جانناچاہتے ہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زکاۃ کی رقم مسجد کی تعمیر یااس کی ضروریات میں صرف کرناجائزنہیں۔مسجد کی تعمیرہویااس کی دیگرضروریات،وہ زکاۃ کے علاوہ دیگر ذرائع سےپوراکرنےکی  کوشش کرنی چاہیے ۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/188):

ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق، ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي. ولا يعطى للولد المنفي .

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/222):

(ولا تدفع) الزكاة (لبناء مسجد) ؛ لأن ‌التمليك شرط فيها ولم يوجد.

المحيط البرهاني (6/221):

وكذلك من عليه الزكاة إلى بناء المسجد أو القنطرة لا يجوز.

 عزیزالرحمن

دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

11/جمادی الآخرۃ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب