| 89208 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
میں تقریباً ایک لاکھ روپے کی مقروض ہوں۔ اب قرض خواہ دباؤ ڈال رہا ہے، اس لیے بینک سے سود پر پیسے لیے بغیر کوئی چارہ نہیں محسوس ہوتا۔ اگر میں بینک سے سود لینے کے بجائے قسطوں پر کوئی چیز خرید کر اسے فروخت کرکے قرضہ ادا کروں تو اس صورت میں مجھے تقریباً اسی ہزار روپے اضافی دینے پڑیں گے۔ واضح رہے کہ قسطوں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے میری ادائیگی مشکل ہے۔اب اس صورت میں میرے لیے بینک سے سود پر پیسے لینا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت میں سود لینا، دینا اور اس میں واسطہ بننا حرام ہے۔ اس میں کسی قسم کی رعایت نہیں، لہٰذا ہر صورت میں سود سے بچنا ضروری ہے۔ اس پر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ:"رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود دینے والے، اس کے دو گواہوں اور لکھنے والے پر لعنت فرمائی"۔
لہٰذا سودی عقد کے ذریعے قرض لینا ناجائز ہے، اس سے ہر حال میں بچیں۔نیز صورت مسئولہ میں آپ اللہ تعالیٰ سے آسانی کی دعا کریں اور کوشش کریں کہ اپنے رشتہ داروں اور دوست احباب سے کوئی تعاون یا قرض مل سکے تو اس کے ذریعے قرض ادا کریں۔اگرعارضی طور پر آپ مستحق زکوۃ ہوں تو زکوۃ کی مدسے بھی اپنا قرضہ ادا کرنے کی ترتیب بنا سکتے ہیں ۔تا ہم اس کا خیال رہے کہ مانگنے اور مسلسل زکوۃلینے کی عادت نہ پڑے۔
حوالہ جات
سورة البقرۃ: (275)
قوله تعالى: {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ...}
سورت آل عمران 🙁 130)
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"
صحيح مسلم (3/1219):
عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله وكاتبه وشاهديه وقال: هم سواء.
محمد شاہ جلال
دار الافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
12/جماد الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


