| 89212 | نان نفقہ کے مسائل | نان نفقہ کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک پروفیسر پنشنر فوت ہوئے۔ اس کے پسماندگان میں ایک بیوہ، دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، دو بیٹے اور تین بیٹیاں شادی شدہ ہیں ایک بیٹی بوجہ پولیوٹانگ سے معذور غیر شادی شدہ ہے۔
شادی شدہ بڑی بیٹی شادی کے کچھ عرصہ بعد بیوہ ہوگئی اور اپنے یتیم بچوں سمیت اپنے والد کے گھر آگئی۔ پروفیسر صاحب اپنی ماہانہ پنشن سے اپنی بیوی، معذور غیر شادی شدہ بیٹی ، بیوہ بیٹی اور اس کے یتیم بچوں کی کفالت کرتے رہے۔ اس کی وفات کے بعد پنشن اس کی بیوہ کو منتقل ہوئی۔ معذور بیٹی اور بیوہ بیٹی اپنے یتیم بچوں سمیت اب بھی اپنی بوڑھی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اوران کی خدمت کرتی ہیں۔پنشن کی رقم سے ہی تینوں (والدہ اور دو بیٹیاں) اپنے اخراجات پورا کرتی ہیں۔ معذور بیٹی اور بیوہ بیٹی کی اپنی کوئی مستقل آمدنی نہیں ہے۔ پروفیسر صاحب کی بیوہ کافی عرصہ سے نفسیاتی مریض ہے اور اپنے گھر میں چلتے پھرتے اپنے آپ سے باتیں کرتی رہتی ہے، باقی اپنے بچوں، ان کی اولاد اور دیگر رشتہ داروں کی شناخت اور ان کے نام اچھی طرح یاد ہیں، وہ ایک باپردہ خاتون ہیں اور گھر کے کام کاج بھی کرلیتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ معذور بیٹی اور بیوہ بیٹی اپنی والدہ کی مرضی سے اس کی پنشن سے اپنے اخراجات پورا کرسکتی ہیں یا بھائیوں کی ذمہ داری ہے کہ ان بہنوں کا معقول ماہانہ نفقہ ادا کریں؟
بھائی کہتے ہیں کہ چونکہ والدہ نفسیاتی مریض ہے اس کی پنشن بیٹیاں استعمال نہیں کرسکتیں، آخر یہ معذور اور ضرورت مند بیٹیاں کہاں سے اپنے اخراجات پورے کریں۔ بینوا توجروا۔
تنقیح:مستفتی نے مزید بتایا کہ ماں کونفسیاتی بیماری شروع سے ہے اور پروفیسر صاحب کے وفات کے بعد مزید بڑھ گئی ہے اور بتایا کہ ویسے تو صحیح ہے نماز، روزہ اور دیگر عبادات کی پہچان رکھتی ہے،لیکن کبھی کبھار وہ خود سے باتیں کرتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر پروفیسر صاحب کی بیٹیوں کا دادا زندہ ہے تو ان کی کفالت دادا ور والدہ مل کر کریں گے، بایں طور کہ ایک تہائی خرچہ والدہ برداشت کرے گی اور دو تہائی دادا۔اگر دادا زندہ نہیں ہے تو والدہ اور بھائی مل کر کریں گے۔
رہا بیوہ بیٹی کے بچوں کا خرچہ تو وہ پروفیسر صاحب کے بیوی کے ذمہ نہیں ہے، ان بچوں کا نفقہ ان کے دادا کے ذمہ ہے، اگر دادا زندہ نہیں تو پھر ان بچوں کے چچا کے ذمہ ہوگا۔
مذکورہ صورت میں پروفیسر صاحب کی بیوی سے کسی وارث کا مال اس لیے لینا کہ یہ نفسیاتی مريضہ ہے بالکل جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ خود بغرض حفاظت کسی کو دینا چاہے تو دے سکتی ہے۔اوپر نان نفقہ کا شرعی مسئلہ بیان کیا گیا ہے، اگر پروفیسر صاحب کی بیوہ اپنی مرضی سے اپنی بیٹیوں یا ان کی اولاد یا کسی بھی شخص پر خرچ کرنا چاہےتو اسے اختیار ہے، بھائی، بیٹے یا کسی بھی رشتہ دار کو اسے روکنے کا حق حاصل نہیں۔
حوالہ جات
الفتاوی الھندیۃ:(1/566)
ولو كان له أم وجد فإن نفقته عليهما أثلاثا على قدر مواريثهما، الثلث على الأم والثلثان على الجد.
الدرالمختار علی ردالحتار:(3/627)
(و) تجب أيضا (لكل ذي رحم محرم صغير أو أنثى) مطلقا (ولو) كانت الأنثى (بالغة) صحيحة (أو) كان الذكر (بالغا) لكن (عاجزا) عن الكسب (بنحو زمانة) كعمى وعته وفلج.
الفتاوی الھندیۃ:(5/54)
ولا يجوز تصرف المجنون المغلوب أصلا، ولو أجاز الولي، وإن كان يجن تارة ويفيق أخرى فهو في حال إفاقته كالعاقل.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
12/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


