| 89285 | نان نفقہ کے مسائل | دیگر رشتہ داروں کے نفقحہ کے احکام |
سوال
میری عمر تقریباً 21 سال ہے۔ مثال کے طور پر میری ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپے ہو، تو اس ایک لاکھ میں میرے والدین، بہنوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور غریبوں کا کتنا حق بنتا ہے؟ اور کس کا کتنا حق ہوتا ہے؟ یا پھر ان سب کا کوئی لازمی حق نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ اپنی تنخواہ کے مالک ہیں ،اسے جس طرح استعمال کرنا چاہیں کر سکتے ہیں ،البتہ مال کے شرعی حقوق کا خیال رکھا جائے۔یاد رہےکہ چندرشتہ داروں کا نفقہ بعض صورتوں میں لازم ہوتا ہے :
۱ ۔ والدین اگرتنگ دست اور حاجت مند ہوں ۔
۲۔غیرشادی شدہ بہنوں اورنابالغ یا معذور بھائیوں کا نفقہ جبکہ ان کا اپنا کوئی ذاتی مال نہ ہو اور نہ ان کے اصول و فروع (اولاد اور آباء) میں سے کوئی صاحبِ حیثیت آدمی موجود ہو۔( شادی شدہ بہنوں کا نان ونفقہ ان کے شوہروں کے ذمے ہے۔)
اس واجب نفقہ کے علاوہ ،والدین اور قریبی رشتہ داروں سےحسن سلوک کے طور پر اپنی وسعت اورحیثیت کے مطابق خرچ کرتے رہنا پسندیدہ ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع :4/34
أما الذي يرجع إلى المنفق عليه خاصة فأنواع ثلاثة: أحدها إعساره فلا تجب لموسر على غيره نفقة في قرابة الولاد وغيرها من الرحم المحرم؛ لأن وجوبها معلول بحاجة المنفق عليه فلا تجب لغير المحتاج.
)الفتاوی الھندیۃ :(1/565
قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب، أو لم يقدرا بخلاف الحربيين المستأمنين، ولا يشارك الولد الموسر أحدا في نفقة أبويه المعسرين كذا في العتابية. اليسار مقدر بالنصاب فيما روي عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى -، وعليه الفتوى والنصاب نصاب حرمان الصدقة هكذا في الهداية.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأما بيان مقدار الواجب منها فالكلام في هذا الفصل في موضعين: أحدهما في بيان ما تقدر به هذه النفقة والثاني: في بيان من تقدر به.أما الأول فقد اختلف العلماء فيه قال أصحابنا: هذه النفقة غير مقدرة بنفسها بل بكفايتها،
)بدائع الصنائع:(4/31
وأما القرابة التي بمحرمة للنكاح فلا نفقة فيها عند عامة العلماء.
)الفتاوى الهندية(1/566:
لا يقضي بنفقة أحد من ذوي الأرحام إذا كان غنيا أما الكبار الأصحاء فلا يقضي لهم بنفقتهم على غيرهم، وإن كانوا فقراء، وتجب نفقة الإناث الكبار من ذوي الأرحام،وإن كن صحيحات البدن إذا كان بهن حاجة إلى النفقة كذا في الذخيرۃ۔۔۔۔۔۔۔والنفقة لكل ذي رحم محرم إذا كان صغيرا فقيرا، أو كانت امرأة بالغة فقيرة، أو كان ذكرا فقيرا زمنا، أو أعمى.
حنبل اکرم
دارالافتاء، جامعۃ الرشید ،کراچی
15/جمادی الثانیہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


