03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
(“میں فلانہ نوں طلاق،طلاق ،طلاق دینا واں “کے الفاظ سے) تین طلاق دینا
89249طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

 السلام علیکم ! آپ خیرت سے ہو ں گے۔۔ حضرت میرے ساتھ ایک مسئلہ پانچ سال پہلے پیش آیا تھا۔۔۔اس سے پہلے میں آپ کو اپنی ایک عادت بتانا چاہتا ہوں۔۔۔اور میں اللہ کو حاضر ناضرجان کے بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے جب غصہ آتا ہے تو میرا دل کرتا ہے میں جو منہ میں آئے بولتا جاوں۔۔اور یہ میری عادت سب کو پتہ ہے۔۔۔اور مجھے ہر بار بعد میں بہت افسوس ہوتا۔۔۔ماں، باپ، بہن، بھائی کسی میں فرق نہیں رہتا۔۔۔اسے بہت سے واقعات ہیں۔۔بتانے کا مقصد یہ ہے کہ میری زبان بے قابو ہو جاتی ہے ۔ایسے ہی پانچ سال پہلے ہمارے گھر ایک لڑائی ہوئی۔۔ہو ا ایساکہ میری بھابھی بلی سے بہت ڈرتی تھی..او ر ہمارے گھر میں بھی ایک بلی تھی..سب کھانا کھا رہے تھے بلی بھابھی کے پاؤں میں آ گئی ۔ جس وجہ سے وہ ڈر گئیں۔اور میری ماں جی ان پہ غصہ ہو نے لگیں۔اور میں اپنی ماں سے لڑنے لگا۔میری بیوی اس وقت اپنی ماں کہ گھر تھی۔اس کی کوئی بات بھی نہیں ہوئی اور میں نے بولا(ہمارے گھر میں اردو اور پنجابی دونوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مجھے نہیں پتہ میں اردو میں بولا یا پنجابی میں یہ بھی اللہ کو حاظر ناضر جان کر بتا رہا  ہوں)میں عائشہ نوں طلاق طلاق طلاق دینا واں۔۔پھر بولا ایسے ہی کہ میں عائشہ نوں طلاق طلاق طلاق دینا واں۔۔۔مجھے یہ بالکل بھی یاد نہیں کہ میں نے اردو میں بولا یا پنجابی میں۔۔۔اگلے دن جب مسئلہ پوچھنا تھا تب میرے بھائی نے بتایا کہ تم نے اسے بولا۔۔۔مفتی صاحب سے والد صاحب نے مسئلہ پوچھا ۔۔۔تو انہوں نے کہا کہ یہ ایسے ہی ہے جسے بولا جائے کہ میں علی کو 5000 دینا واں۔۔۔۔ لیکن دیا تو نہیں ناں ۔۔۔آج پانچ سال گزر گئے۔۔۔میری دو بیٹیاں ہیں...مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔اور میں کسی سے نہیں یہ مسئلہ پوچھ رہا۔۔۔میں بہت پریشان ہوں۔۔۔پہلے مجھے نہیں معلوم تھا یہ اتنا حساس مسئلہ ہے۔۔۔وعلیکم السلام۔۔۔امید ہے مجھے اب جلد جواب مل جائے گا۔۔۔جزاک اللہ خیرا۔۔

    ایک بات بتانی یا د نہیں رہی۔۔ایک مفتی صاحب کو میں جانتا ہوں ان سے voice msg پر میں نے یہ مسئلہ پوچھا تھا۔۔انہوں نے کہا طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ پنجابی میں طلاق دینا واں مستقبل کا لفظ ہے اور مستقبل کے لفظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔۔۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ نے  طلاق کا  جو  جملہ استعمال کیا  ہے  وہ   پنجابی زبان میں  حال کے لیے استعمال ہوتا ہے   اور یہ الفاظ صریح طلاق پر دلالت کرتے ہیں   لہٰذا صورت مسئولہ میں  آ پ  کی بیوی کو تین طلاقیں  واقع ہو گئی    اور اب وہ آپ پر مکمل طور پر حرام ہوگئی ہے۔

حوالہ جات

 الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 349):

 (وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا.

 الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 355):

وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج.

 المحيط البرهاني (3/ 200):

وأما البدعي فنوعان: بدعي لمعنى يعود إلى العدد، بدعي لمعنى يعود للوقت فالذي يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمات متفرقة، أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة أو بكلمتين متفرقتين،

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 232):

 (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين)

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 233):

وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.

وسیم اکرم  بن محمد ایوب

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

16/جمادی الثانیہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب