| 89268 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
بیوی کی وفات کےبعد میرے سسر نوشاد خان کا کہنا ہے کہ میری بیٹی کے پاس ایک سونے کی انگوٹھی تھی وہ بھی مجھے دے دیں۔ شوہر ہونے کے ناطے میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے ان کی موت سے پہلے یا بعد میں کسی بھی قسم کی انگوٹھی ان کے پاس نہیں دیکھی۔ شادی کے وقت نکاح فارم میں مہر بیس ہزار روپے، تین تولہ سونا طلائی زیورات (1.5 تولہ غیر معجل اور 1.5 تولہ معجل) تھا۔ 1.5 تولہ شادی کے فوراً بعد ادا کر دیا تھا ،اور باقی زیور اہلیہ کے کہنے پر ایک تولہ سے زائد مزید بنوا کر دیا تھا۔ شادی کے بعد کچھ قرضہ تھا اور بھائی کے گھر میں اوپر چھت پر اپنے لیے کمرہ بنوانا تھا ،تو گھر والی نے اپنی اجازت سے دے دیا تھا جو کہ ہم نے فروخت کر لیا تھا۔ اس وقت اس کی قیمت بہت کم تھی۔ اس وقت میرے پاس یا میری اہلیہ کے پاس کسی بھی قسم کا سونا باقی نہیں تھا۔ نکاح میں لکھا ہوا سارا سونا اہلیہ کو حوالہ کر دیا تھا۔ درج بالا تفصیل کی روشنی میں کیا میرے سسر کا یہ مطالبہ درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر بیوی کے پاس سونے کی انگوٹھی نہیں تھی تو آپ کے سسر کا اس کا مطالبہ درست نہیں ۔اسی طرح بیوی نے جوزیور آپ کو بطور قرض دیاتھا تو وہ بھی بیوی کے من جملہ ترکہ میں سے شمار ہوگا،جس کی ادائیگی سونے کی صورت میں وزن کے حساب سے آپ کے ذمہ ضروری ہے۔البتہ اس کو کل ترکہ میں شامل کرکے اس کا نصف بھی شوہر کو ملے گا۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ط: دار الكتاب الإسلامي (8/ 557):
"(يبدأ من تركة الميت بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه... فيجب أن يعلم أن التركة تتعلق بها حقوق أربعة : جهاز الميت ، ودفنه ، والدين ، والوصية ، والميراث."
رد المحتار ط :الحلبي (3/ 113):
")وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا."
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ط: دار الكتاب الإسلامي (3/ 161):
"ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح."
رد المحتار ط : الحلبي (6/ 770):
"(والربع للزوج) ...(مع أحدهما) أي الولد أو ولد الابن (والنصف له عند عدمهما) فللزوج حالتان النصف والربع."
محمد جمال بن جان ولی خان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
15/جمادی الثانیہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


