| 89257 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ہماری قوم کی مشترکہ زمین تھی جس میں دوسری قوم کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا ۔زمین کی وصولیابی کے لئےاور دیگر اخراجات طے ہونے کے لیے قوم نے باہم مل کر قوم سے چندہ اکٹھا کیا لیکن قوم کے کچھ افراد نے زمین کی وصولیابی کے لئے چندہ دینے سے اور دیگر کوششوں سے انکار کردیا ۔اب مذکورہ زمین قوم کو قبائلی فیصلہ سےمل گئی اب قوم کے درمیان اسی زمین کی تقسیم ہورہی ہے لیکن قوم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن لوگوں نے زمین کے وصولیابی کے لئے چندہ جمع نہیں کیا ہے یادیگر کوششوں سے انکار کردیا ہے ان کو اب مذکورہ زمین کی تقسیم کے حصص سے خارج کردیا جائے گا ان کا مذکورہ تقسیم زمین میں کوئی حق نہیں ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اب ان لوگوں کا (جنہوں نے چندہ جمع کرنے سے یا دیگر کوششوں سے انکار کردیا ہے )مذکورہ زمین سے حق ساقط ہوجاتا ہے؟
تنقیح :سائل سے زبانی پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ زمین غیر مملوکہ تھی ، قبائلی فیصلہ کے ذریعے زمین کاقوم کے حق میں فیصلہ کر دیاگیا ، بارشوں کے موقع پر زمین کی درستگی کے لیے قوم کے افراد سےچندہ لے کر اسے درست کر وایا جاتا ،بعض چندہ نہ دیتے ، اب پو چھنا یہ چاہتے ہیں کہ جو چندہ نہیں دیتےتھے کیا زمین کی تقسیم میں ان کو شامل کیا جائے گا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر قبائلی جرگے کے ذریعے مذکورہ زمین کا قوم کےحق میں ملکیت کے طور پر فیصلہ کردیا گیا ہےاور کوئی قانونی رکاوٹ اور دعویدار موجود نہیں ہے تویہ زمین قوم کی مشترکہ ملکیت ہوچکی ہے،لہذا تقسیم کرنے کی صورت میں موجودہ تمام خاندانوں میں برابر تقسیم ہونی چاہیے۔تاہم اب تک ہونے والے فی خاندان سےاخراجات کی وصولی کرنا ضروری ہے پھر اسے سب کی رضامندی سے قوم کے مشترکہ فنڈ میں جمع کر لیا جائے۔وقت پر چندہ نہ دینے کی وجہ سےان کی ملکیت ختم نہیں ہوگی ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (4/193:
وللإمام أن يقطع كل موات وكل ما ليس فيه ملك لأحد، ويعمل بما يرى أنه خير للمسلمين، وأعم نفعا.
(بدائع الصنائع :(7/26
وأما صفات القسمة فأنواع: منها أن تكون عادلة غير جائرة وهي أن تقع تعديلا للأنصباء من غير زيادة على القدر المستحق من النصيب ولا نقصان عنه؛ لأن القسمة إفراز بعض الأنصباء، ومبادلة البعض، ومبنى المبادلات على المراضاة، فإذا وقعت جائرة؛ لم يوجد التراضي، ولا إفراز نصيبه بكماله؛ لبقاء الشركة في البعض فلم تجز وتعاد.
)الفتاوى الهندية (5/214:
وسئل علي بن أحمد عمن اشترى أرضا مشتركة بين جماعة اشترى نصيب الحضور وبعضهم غيب كيف تقسم هذه الأرض مع غيبة الشريك؟ وهل له إلى زراعتها سبيل؟ فقال: لا تجوز قسمتها حال غيبة الشركاء أو حال غيبة بعض الشركاء إلا أن تكون الأرض موروثة فينصب القاضي قيما عن الغائب فيقسم حينئذ، وأما زراعتها فإن رأى القاضي أن يأذن للشريك في زراعة كل الأرض لكي لا يضيع الخراج فله ذلك كذا في التتارخانية.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
18//جمادی الثانیہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


