03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کا بیٹی کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کرانا
89240نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

فاطمہ کے والد نے اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح بازار میں کہیں بیٹھ کر زید سے کروا دیا۔ نکاح میں گواہان بھی موجود تھے اور خطبہ بھی پڑھا گیا۔ جب اگلے صبح فاطمہ کو اس نکاح کا علم ہوا تو اس نے فوراً انکار کیا، چیخی، روئی اور کہا کہ "میں اس لڑکے سے کبھی بھی نکاح نہیں کروں گی"۔ اُس وقت فاطمہ بالغ تھی۔ اسی دوران والد نے اسے راضی کرنے کی کوشش کی، اور تقریبا ایک ہفتہ بعد وہ اس بات پر راضی ہوگئی کہ "ٹھیک ہے، میں نکاح قبول کر لیتی ہوں۔" رضامندی ظاہر ہونے کے بعد زید نے یوں طلاق کی بات کہی: "اگر میں اپنے موبائل میں فیس بُک انسٹال کروں تو میری بیوی مجھ پر طلاق۔" بعد میں وہ اپنی بات پر قائم نہ رہ سکا اور اس نے فیس بُک انسٹال کر لیا۔ اب اسے معلوم ہوا کہ جب اس نے یہ جملہ کہا تھا کہ "اگر میں فیس بُک انسٹال کروں تو میری بیوی پر طلاق"، اُس وقت فاطمہ نکاح پر رضامند ہوچکی تھی۔ اس وجہ سے وہ سمجھ رہا ہے کہ طلاق واقع ہوگئی ہے۔ لیکن اگر طلاق واقع ہو جائے اور نکاح ختم ہو جائے تو دونوں خاندانوں کے درمیان جھگڑے کا خطرہ ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ نکاح درست طور پر قائم ہوا تھا یا نہیں، اور کیا زید کی یہ طلاق فاطمہ پر واقع ہوگی یا نہیں۔

اضافہ از سائل: زید نے کہا  کہ "اگر میں نے فیس بک انسٹال کیا تو میری بیوی کو تین طلاقیں"۔زید کے خیال میں یہ تھا کہ فاطمہ تو مجھ سے نکاح نہیں کر رہی، اس نے تو انکار کردیا ہے، اسے پتہ نہیں تھا کہ فاطمہ نے رضامندی ظاہر کی ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں جب والد نے اپنی بالغہ بیٹی فاطمہ کا نکاح ان کی اجازت کے بغیر زید سے کروایا  تو یہ نکاح ان کی بیٹی کی اجازت پر موقوف تھا  ۔لہذا    فاطمہ کو جب  اپنی نکاح کا علم ہوا  اور اس نے فورا انکار کیا، تو یہ نکاح شرعا  منعقد نہیں ہوا تھا چاہے  ان کی بیٹی نے بعد میں رضامندی ظاہر کی ہو ۔ لہذا   فاطمہ زید کی بیوی نہیں ہے اور  زیدنے جب  فاطمہ کی  طلاق کو ایسے وقت میں  شرط پر معلق کر کے اس پر عمل کیا جب   فاطمہ  زید کی ملک نکاح میں نہ تھی  تو یہ کالعدم شمار ہونے کی وجہ سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔چونکہ فاطمہ زید کی بیوی نہیں ہے، لہذا وہ زید اور زید کے علاوہ کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے۔تاہم والد کو اپنی بیٹی کی رضامندی  کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کا نکاح کرانا چاہیے تھا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية  ط: دار الفكر بيروت  (1/ 288):

"بالغة زوجها أبوها، فبلغها الخبر،  فقالت: لا أريد أو قالت: لا أريد فلانا، فالمختار أنه يكون ردا  في الوجهين، كذا في التتارخانية ناقلا عن العتابية."

الفتاوى الهندية  ط: دار الفكر بيروت  (1/ 288):

"ولو زوجها وليها،  فقالت: لا أرضى، ثم رضيت في المجلس لم يجز، كذا في محيط السرخسي."

المحيط البرهاني ط:  دار الكتب العلمية (3/ 58):

"البكر ‌إذا ‌بلغها ‌الخبر، ‌فقالت: لا أرضى، ثم قالت: قد رضيت، فلا نكاح بينهما؛ لأن النكاح قد بطل بردها، فالرضا صادف عقدا مفسوخا."

فتح القدير  ط : الحلبي(3/ 268):

"وعلى هذا فرعوا، أنه لو استأذنها في معين، فردت، ثم زوجها منه، فسكتت، جاز على الأصح، بخلاف ما لو بلغها، فردت، ثم قالت: رضيت، حيث لا يجوز؛ لأن العقد بطل بالرد، فالرضا بعد ذلك بعقد مفسوخ."

رد المحتار ط:  الحلبي  (3/ 59):

"وفي شرح الجامع الصغير لقاضي خان: وإن بكت كان ردا في إحدى الروايتين عن أبي يوسف، وعنه في رواية: يكون رضا. قالوا: إن كان البكاء عن صوت وويل لا يكون رضا، وإن كان عن سكوت، فهو رضا اهـ .  وبه ظهر أن أصل الخلاف في أن البكاء هل هو رد أو لا، وقوله( قالوا إلخ) توفيق بين الروايتين، فمعنى لا يكون رضا أنه يكون ردا كما فهمه صاحب الوقاية وغيره، وصرح به أيضا في الذخيرة حيث قال بعد حكاية الروايتين:  وبعضهم قالوا : إن كان مع الصياح والصوت  فهو رد، وإلا فهو رضا، وهو الأوجه، وعليه الفتوى اهـ . كيف والبكاء بالصوت والويل قرينة على الرد  وعدم  الرضا؟!"

رد المحتار ط : لحلبي (3/ 344):

"التعليق...اصطلاحا (ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى) ...(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (، أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ط: دار الكتب العلمية  (3/ 126):

"وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق  الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك."

 محمد جمال بن جان ولی خان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

18/جمادی الثانیہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب