| 89292 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
اگر کوئی شخص اپنے ناپاک کپڑوں کو پاک کپڑوں کے ساتھ واشنگ مشین میں ڈال دے اور مشین میں پانی بھرے اور کپڑوں کا چکر لگايا جائے اور پھر واشنگ مشین سے پانی نکال ديا جائے ، پھر دوسری ، تیسری اور کئی مرتبہ ايسا کیا جائے اور آخری مرتبہ صرف ایک بار واشنگ مشین کے خشک کرنے والے حصے سے نچوڑا جائے اور کسی کپڑے پر نجاست کا کوئی نشان باقی نہ رہے تو کیا وہ سارے کپڑے پاک ہونگے یا نہیں ( اس طریقے سے کپڑوں کو صرف ایک مرتبہ نچوڑا جاتا ہے تین مرتبہ نہیں) مہربانی کر کے اس مسلے میں فقہ اور فتاوی کی کتابوں کا حوالہ دے کر جواب تحریر فرمائیں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی لحاظ سے ان کپڑوں کی مکمل پاکیزگی دو بنیادی شرائط سے وابستہ ہے:
نجاست کا زائل ہونا: یعنی نجاست کا جرم، بو اور رنگ وغیرہ ختم ہو جائے۔
نجس پانی کا نکل جانا: یعنی کپڑوں سے ناپاک پانی نکل جانے کا غالب گمان ہو۔
مذکورہ صورت میں جب ناپاک کپڑوں کو پاک کپڑوں کے ساتھ مشین کے ٹب میں ڈالا جاتا ہے، تو پانی کے اختلاط کی وجہ سے تمام پاک کپڑے بھی ناپاک ہو جاتے ہیں۔ مشین سے پانی نکالنے کے باوجود کپڑوں کے اندرکچھ نجس پانی باقی رہ جاتا ہے ، اگرچہ ظاہری طور پر نجاست کا کوئی نشان نظر نہ بھی آ رہا ہو۔ لہٰذا (اس مرحلے پر) تمام کپڑے ناپاک ہیں۔
اب ان تمام کپڑوں کو پاک کرنے کے لیے یا تو کپڑوں میں تین مرتبہ صاف پانی ڈال کر انہیں اچھی طرح نچوڑا جائے تاکہ سارا نجس پانی نکل جائے۔ یا کپڑوں کو بڑے ٹب میں ڈال کراس پر اتنا پانی بہایا جائےکہ یقین یا ظنِ غالب حاصل ہو جائے کہ اب نجس پانی کپڑوں میں باقی نہیں رہا۔ پھر یہ کپڑے پاک ہوں گے۔
بہتر طریقہ یہ ہے کہ ناپاک کپڑوں کو مشین میں ڈالنے سے پہلے، نجاست والی جگہوں کو اچھی طرح دھو لیا جائے تاکہ نجاست زائل ہو جائے اور مشین میں موجود دیگر کپڑوں میں نجاست نہ پھیلے۔
حوالہ جات
حاشیۃ الطحطاوی: 162ص
(ويطهر محل النجاسة غير المرئية بغسلها ثلاثا وجوبا) وسبعا مع التَّتْريب ندبا في نجاسة الكلب خروجا من الخلاف (والعصر كل مرة) تقديرا لغلبة.يعني اشتراط الغسل والعصر ثلاثا إنما هو إذا غمسه في إجانة أما إذا غمسه في ماء جار حتى جرى عليه الماء أو صب عليه ماء كثيرا بحيث يخرج ما أصابه من الماء ويخلفه غيره ثلاثا فقد طهر مطلقا بلا اشتراط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار والمعتبر فيه غلبة الظن هو الصحيح .
رد المحتار (543/1)
(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها)بلا عدد به يفتى.(وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر....وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.....أقول: لكن قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها ولو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل ولا عصر، وأن المعتبر غلبة الظن في تطهير غير المرئية بلا عدد على المفتى به أو مع شرط التثليث على ما مر.
ظہوراحمد
دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی
18جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


