03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسلمان لڑکیوں کا سوشل میڈیا پر تصویر لگانےکا حکم
89344جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

مسلمان لڑکیوں کا فیس بُک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فورمز پر نقاب کے ساتھ تصاویر یا اسٹوری پوسٹ کرنا شریعت کی رو سے کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ڈیجیٹل تصویر میں علماء کے مابین اختلاف رائے ہے، تاہم جو اجازت دیتے ہیں، ان کے نزدیک بھی باپردہ خواتین کے لیے بلا ضرورت تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنا پسندیدہ نہیں۔ عورت کو اسلام میں ایک نمایاں مقام سے نوازا گیا ہے اور اس کی نمائش کرنے کے بجائے اسے چادر سے بڑھ کر چار دیواری کے پردے کی ترغیب دی گئی ہے۔ لہذا خواتین کو تصاویر یا اسٹوری، خواہ نقاب کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، لگانے سے گریز کرنا لازم ہے۔ عورت کے جسم پر بے شک چادر ہو، مگر بلا ضرورت غیر محارم کے سامنے آنا بھی اسلامی آداب کے خلاف ہے؛ اس سے احتراز لازم ہے۔

حوالہ جات

سنن أبى داود (4/ 543):

حدثنا عبد الله بن مسلمة حدثنا عبد العزيز - يعنى ابن محمد عن أبى اليمان عن شداد بن أبى عمرو بن حماس عن أبيه عن حمزة بن أبى أسيد الأنصارى عن أبيه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء فى الطريق، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- للنساء: « استأخرن؛ فإنه ليس لكُن أن تحققن الطريق، عليكن بحافات الطريق ». فكانت المرأة تلتصق بالجدار حتى إن ثوبها ليتعلق بالجدار من لصوقها به.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 647):

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم ‌الإجماع ‌على ‌تحريم ‌تصوير ‌الحيوان.

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (22/ 69):

قوله: (ولا تصاوير) وفي الرواية التي تقدمت في بدء الخلق: ولا صورة، بالإفراد. وقال الخطابي: المراد من الصور التي فيها الروح مما لم يقطع رأسه أو لم يمتهن بالوطء.

بذل المجهود في حل سنن أبي داود (12/ 177):

وحاصله أن ما كان من صورة مما يعبد فلا يجوز مطلقا، سواء كان شجرا أو شمسا أو غير ذلك، وأما ما سوى ذلك، فيجوز في غير ذي روح مطلقا، وأما من ذي الروح فيجوز الممتهن، وتجوز الصغيرة، وهي ما لا تظهر بجميع أجزائه إذا وضعت على الأرض والناظر قائم.

فيض الباري على صحيح البخاري (6/ 111):

واعلم أن فعل ‌التصوير حرام مطلقا - أي تصوير الحيوان - سواء كانت صغيرة أو كبيرة، مجسمة أو مسطحة، ممتهنة أو موقرة، وإنما الكلام في نفس ‌التصوير، أي الصورة، فيعلم من «الكبير - شرح المنية»: أن الصغيرة هي التي لا تبدو للناظر أعضاؤها، وإلا فهي كبيرة.

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

18/جمادی   الثانیۃ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب