03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو بیٹیوں کا حصہ
89247میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرا نام زینب ہے۔ میں اپنے والدِ مرحوم کی جائیداد (ترکہ) کی شرعی تقسیم کے بارے میں مکمل رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا، اور وہ اپنے پیچھے جائیداد چھوڑ گئے۔ ہم صرف دو بیٹیاں ہیں۔ ہماری والدہ والد صاحب سے پہلے فوت ہو چکی تھیں۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت زندہ ورثاء یہ تھے: دو بیٹیاں (ہم دونوں) ایک بھائی (ہمارے تایا صاحب) دو بہنیں (ہماری دونوں پھوپھیاں) قانونی ضرورت کے تحت ہم نے عدالتی ڈگری اپنے نام پر لی اور بعد میں جائیداد کی رقم وصول کی۔ اب ہم اس رقم کو شریعت کے مطابق پورے انصاف کے ساتھ تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے والد  نے انتقال کے وقت جو جائیداد منقولہ و غیر منقولہ اورنقد رقم   یا قابل وصول قرض وغیرہ چھوڑا ہے  وہ سب ان  کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا، اگر ان کے ذمے کسی کا واجب الاداء  قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچے  اس میں سے فیصدی اعتبار سے میت کی  ہر   بیٹی کو % 33.33، ميت  کےبھائی کو16.67%  اور ہر بہن کو8.33% دیا  جائے گا۔

ورثہ

بیٹی

بیٹی

بھائی

بہن

بہن

کل حصص

عددی حصہ

4

4

2

1

1

12

فیصدی حصہ

33.33%

33.33%

16.67%

8.33%

8.33%

100%

 

 

 

 

حوالہ جات

رد المحتار:( 522/10)

(ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وان سفلوا (والاخوات) لابوين او لاب (باخيهن) فهن اربع ذوات النصف وثلثين يصرن عصبة باخوتهن.

قال الله تعالي (النساء: (11

يوصيكم الله في اولادكم للذكر مثل حظ الانثيين. فان كن نسآء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك وان كانت واحدة فلها النصف.

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

18/06/1447ھ

 

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب