03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمت کے اوقات کار کی خلاف ورزی کا حکم
89230اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

    میرا سوال یہ ہے کہ میں گاؤں کے ایک اسکول میں سنگل ٹیچر ہوں اور اپنے اسکول میں ایمانداری سے پڑھاتاہوں،لیکن میں اسکول جانے میں سرکاری وقت سےتاخیر سے جاتا ہوں اور چھٹی بھی پہلے کر لیتا ہوں،لیکن بچوں کو پڑھاتا ایمانداری سے ہوں،اور جو بھی ضروری چیزیں ہیں وہ پڑھاتا ہوں ۔تو کیا میں گناہ گاروں میں ہوں۔ چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا اس نے کہا کہ گناہ گاروں میں سے نہیں ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اسکول کے استادکاحکومت سے معاہدہ دوچیزوں پر ہوتاہے،اپناکام بھی پوراکرناہے اور وقت بھی پورا دیناہے،لہذاآپ کے لیے نہ حاضری میں تاخیر کرنا جائز ہے اور نہ ہی مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا۔تاخیر یا قبل از وقت چھٹی کی صورت میں جتنی مقدار میں ڈیوٹی سرانجام نہیں دی گئی، اس کے بقدر تنخواہ لینا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔اگر گھنٹوں کی تعدادکم ہوتوبقیہ وقت درس اورنوٹس کی تیاری،طلبہ کے لیے تعلیمی سرگرمیاں ڈیزائن  کرنے اور دیگرمعاون تدریسی کاموں میں لگاناچاہیے۔تاہم غیر حاضری کی صورت میں تنخواہ سے کٹوتی کرواناضروری ہوگا۔

واضح رہے کہ شرعی مسائل میں صحیح رہنمائی کے لیے مستند اور بااعتماد علما و مفتیانِ کرام ہی سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ جدید ایپس، اور چیٹ جی پی ٹی جیسےٹولز معلومات دینے کے آلات تو ہیں، مگر یہ شرعی رہنمائی کا معتبر اور حتمی ذریعہ نہیں بن سکتے۔ لہٰذا اپنے دینی معاملات اور فقہی احکام میں ہمیشہ اہلِ علم سے براہِ راست رہنمائی حاصل کریں، تاکہ دین کے معاملے میں کسی غلطی یا اشتباہ کا اندیشہ باقی نہ رہے۔

حوالہ جات

[الأنفال: 27]:

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَخُونُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓاْ أَمَٰنَٰتِكُمۡ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونﵞ

[المائدة: 1]:

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ ﵞ

[النحل: 43]:

ﵟفَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَﵞ

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/243):

قال: "والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم" وإنما سمي أجير وحد؛ لأنه لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له والأجر مقابل بالمنافع، ولهذا يبقى الأجر مستحقا، وإن نقض العمل.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/70):

(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة ... واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى.

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص504):

وللمولى أن يمنع عبده عن الجمعة والجماعات والعيدين... وأما الأجير فقال أبو علي الدقاق: ليس للمستأجر منعه منها ولكن يسقط عنه من الأجرة بقدر اشتغاله بذلك إن كان بعيدا.

عزیزالرحمن

دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

18/جمادی الآخرۃ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب