| 89349 | نماز کا بیان | مسجدکے احکام و آداب |
سوال
ایک شخص مسجد میں انفرادی نماز بہت اونچی آواز سے پڑھتا ہے جس سے دوسرے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شخص انفرادی طور پررات کی کوئی نماز ادا کرے تواس کے لیے آواز کے ساتھ قراءت درست ہے ، تاہم اگر کوئی مسجد میں ہو تو آواز اتنی بلند نہیں کرنی چاہیے جس سے دوسروں کو تشویش ہو یا دوسرے نمازیوں کے اعمال میں خلل پیدا ہو ،ایسا کرنا مکروہ ہے۔ ایسے شخص کو نرمی اور حکمت کے ساتھ مسئلہ بتلاکر سمجھانا چاہیے ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 660):
وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 532):
)قوله فإن زاد عليه أساء) وفي الزاهدي عن أبي جعفر: لو زاد على الحاجة فهو أفضل، إلا إذا أجهد نفسه أو آذى غيره قهستاني.
المحيط البرهاني (1/ 300):
وأما نوافل الليل لا بأس بالجهر فيها؛ لأنه مشروع في فرائض الليلة لكن الأفضل أن يكون بين الجهر والإخفاء.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
19 /جمادی الآخرۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


