| 89317 | نکاح کا بیان | نکاح صحیح اور فاسد کا بیان |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک پراسٹیٹیوٹ (بدکاری) کے مکان پر گیا وہاں پہ ایک لڑکی تھی جو پراسٹیٹیوشن(جسم فروشی) کا کام کرتی تھی میں نے اس لڑکی سے اس کا فون نمبر لے لیا اس کے بعد میری اس کے ساتھ بات چیت ہونا شروع ہو گئی ایک ڈیڑھ مہینہ گزرنے تک پھر وہ اپنی پرسنل باتیں میرے ساتھ شیئر کرنا شروع ہو گئی اور میرے اوپر اعتماد کرنے لگی اور اس نے مجھے اپنے گھر پر بلا کے اپنی ساری کہانی بتائی ،کہ اس کی شادی ہوئی تھی ،اس کے شوہر نے اس کو چھوڑ دیا ،اس کا ایک بیٹا ہے ،جس کی پرورش کے لیے اس نے یہ غلط کام کا انتخاب کیا۔ اب وہ لڑکی مجھے فورس کر رہی ہے کہ تم میرے ساتھ شادی کرو اور مجھے عزت کی زندگی دو نہیں تو میں خود کشی کر لوں گی اور اپنے بیٹے کو بھی مار دوں گی، میں بہت ہی نازک معاملے میں پھنس گیا ہوں ،مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کروں ؟جبکہ وہ لڑکی وہاں پہ غلط کام کرتی تھی اور میں بھی وہاں پہ غلط کام کرنے ہی گیا تھا اپنے دوست کے ساتھ تو میں قران پاک کی اس آیت کو جس میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ برے مرد بری عورتوں کے لیے ہیں اور اچھے مرد اچھی عورتوں کے لیے اپنے اوپر اپلائی ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔اور میں سمجھ رہا ہوں کہ اگر میں اس لڑکی کے ساتھ شادی کر لوں گا تو یہ مجھے میرے اس گناہ کی سزا ہوگی۔اور دوسرا پہلو دیکھا جائے تو مجھے لگ رہا ہے کہ میں اس لڑکی کے ساتھ شادی کر کے اس کی یہ مدد کروں گا جب کہ وہ میرے ساتھ وعدہ کر رہی ہے کہ میں یہ کام چھوڑ دوں گی ۔اور تمہارے ساتھ مخلص رہوں گی لیکن میں اپنی فیملی کو یہ بات نہیں بتا سکتا اگر میں اس کے ساتھ ابھی شادی کروں گا تو فیملی کی اجازت کے بغیر کروں گا اور کورٹ میرج کروں گا، آپ میرے لیے اس میں شرعی معاملات کی وضاحت كريں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر لڑکی توبہ کرنے میں سنجیدہ ہے اور آپ بھی آئندہ حرام سے بچتے ہوئے حلال پر اکتفاء کا ارادہ رکھتے ہیں تو پھر آپ دونوں اپنی توبہ کی وجہ سے طیبین اور طییبات میں داخل ہوجائیں گے۔ لہذا آپ کے لیے اس لڑکی کا سہارا بننا جائز ہوگا۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ اور وہ لڑکی آئندہ چل کر پاکیزہ زندگی نہیں گزار پائیں گے یا اس کی وجہ سے آپ کی فیملی ناقابل تحمل انتشار کا شکار ہوجائےگی تو بہتر ہے کہ آپ یہ نکاح نہ کریں۔والدین کو بتانا نکاح کے درست ہونے کے لیے تو شرط نہیں لیکن آئیندہ نکاح کے پائیدار رہنے میں اس کا بہت دخل ہوگا لہذا چھپ کر ایسا کام نہ کیا جائے۔
حوالہ جات
سنن ابن ماجه (2/ 1419 ت عبد الباقي):
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التائب من الذنب، كمن لا ذنب له».
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 247):
الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 233):
أن يكون العاقد بالغا فإن نكاح الصبي العاقل وإن كان منعقدا على أصل أصحابنا فهو غير نافذ.
محمد طلحہ فلک شیر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
17 /جمادی الثانیۃ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طلحہ ولد فلک شیر | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


