| 89417 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
اسلام صاحب۔ میرا ایک اہم سوال ہے طلاق کے بارے میں میرے رشتیدار ہیں، شوہر کا نام محمد قیصر ولد علی حسن والدہ کا نام بھابل بیگم کا نام شبیران والدہ کا نام سناری شوہر نے اپنی بیگم کو 3 دفعہ طلاق دیدی ہے 3 گواہ کے سامنے۔ انکی 4 بیٹیاں ہیں جس کو طلاق دی وہ عورت ایک مہینے سے اپنے مائکے ، یانی ماہ کے گھر چلی گئی ہے اب وہ میاں بیوی پشتارہئ ہیں۔۔ ایک دوسرے کو معاف اور صلاح کرنا چھارہے اسلام اسکا کیا حکم دیدی ہے مھربانی کرکے اس مصلے کا حل بتائیں جزاک اللہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ تین طلاقوں سے بیوی اپنے شوہر کے لیے حرام ہو جاتی ہے، اب میاں بیوی کا کسی قسم کا تعلق قائم کرنا حرام ہے،عدت گزرنے کے بعد عورت کسی اور مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔ اگر وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد پھر طلاق ہو جائے ، یا شوہر کا انتقال ہو جائے تو وہ عورت عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
القرآن ( البقرة: 230 )
فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 473):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.
تفسير الألوسي روح المعاني (1/ 535):
فلا تحل له من بعد أي من بعد ذلك التطليق حتى تنكح زوجا غيره أي تتزوج زوجا غيره، ويجامعها.
مجیب الرحمان بن محمد لائق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
21/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مجیب الرحمٰن بن محمد لائق | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


