| 89314 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
مفتی صاحب ہماری والدہ کے انتقال کے بعد مرحوم والد صاحب نے عقد ثانی کیا ۔ وہ 1986 میں انتقال فرما گئے ۔ والد صاحب نے ایک مکان اور زرعی زمین ترکہ میں چھوڑی ۔ ہماری دوسری والدہ آخری وقت تک ہمارے ساتھ رہیں ۔ دوسری والدہ اپنی زندگی میں بارہا وصیت کر چکی تھیں "میرا سب کچھ میری زندگی میں تمہارا اور میرے مرنے کے بعد بھی آپ لوگوں کا ہے " 2020 میں امی (دوسری والدہ) بھی فوت ہو گئیں ۔ ان کی نہ تو کوئی اولاد ہے اور نہ ہی بہن بھائی ۔ ان کے والدین بھی وفات پاچکے تھے ۔ البتہ ان کے تایا زاد بھائیوں (جو امی کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے) کی اولاد میں سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ۔ ان حالات میں ہماری دوسری والدہ کی وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی ؟ کیا ہم بھی ان کے وارثوں میں شامل ہوں گے ۔ سائل داؤد الحسن گیلانی 23- ریلوے روڈ لاہور
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ ہم چار بھائی اور ایک بہن ہیں۔ ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد والد صاحب نے دوسرا نکاح کیا، اور والد صاحب بھی 1986ء میں انتقال فرما گئے۔ والد صاحب کی میراث میں ایک زمین اور ایک گھر تھا۔ زمین تو والد صاحب نے پہلے ہی اپنے بیٹے داود الحسن گیلانی کے نام کر دی تھی، اس کو قبضہ بھی دے دیا تھا اور کاغذ لکھوا دیا تھا۔ والد صاحب کی میراث میں اب صرف ایک گھر باقی ہے۔اب ہمیں دوسری والدہ بارہا وصیت کر چکی ہیں کہ: میرا مال زندگی میں بھی تمہارا ہے اور مرنے کے بعد بھی۔لیکن والدہ نے نہ تو کوئی اسٹامپ لکھوایا ہے،نہ قبضہ دیا ہےاور نہ وصیت پر کوئی گواہ موجود ہیں صرف ہمارے سامنے والدہ یہ کہتی تھی۔ اس دوسری والدہ کے صرف تایازاد بھائی کی اولاد ہیں، جو دو بھائی اور ایک بہن پر مشتمل ہیں،جو اس وقت ان کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں ہیں کہ وہ کہاں رہتے ہیں،اور ان کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ مرحومہ کی میراث میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔
ہمارا بھائی داود الحسن گیلانی کہتا ہے کہ یہ زمین والد صاحب نے مجھے دی تھی، لیکن میں اس کو تمہارے درمیان تقسیم کروں گا۔
میت اور ورثہ کے فرضی نام:میت کا نام ناصر اس کی دوسری بیوی کا نام عائشہ تین بیٹوں کا نام زید،عمرو،بکر،بیٹی کانام فاطمہ دوسری بیوی عائشہ کے تایازاد بھائی کے دو بیٹوں کا نام احسان ،عادل،اور بیٹی کا نام کلثوم ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم ناصر نے اپنے انتقال کے وقت (1986ء) میں جو جائیداد، نقد رقم، سونا چاندی، مکان، کاروبار، غرض جو کچھ سازوسامان چھوڑا، یا اگر کسی کے ذمے ان کا قرض تھا، یہ سب ان کا ترکہ شمار کیا جائے گا۔
سب سے پہلے اس ترکہ میں سے ان کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد اگر کسی کا ان پر قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر غیر وارث کے حق میں انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی کی حد تک وہ ادا کی جائے گی۔
اس کے بعد جو کچھ بچے، اس میں سے آٹھواں حصہ (%12.5) مرحوم ناصر کی دوسری بیوی عائشہ کا ہوگا، جو اس کے ورثہ اور جن کے لیے وصیت کی گئی تھی، ان کو ملے گا۔ باقی سات حصے (%87.5) مرحوم کے بیٹوں اور بیٹی کو ملیں گے، جن میں بیٹی کو (%12.5) اور بیٹوں زید، عمرو اور بکر میں سے ہر ایک کو %25 ملے گا۔
دوسری بیوی عائشہ نے مرحوم کی اولاد کے لیے وصیت کی تھی، لیکن اس وصیت پر نہ تو کوئی گواہ موجود ہے اور نہ ہی اس کے ورثہ (تایا کے پوتوں) کی کوئی رضا مندی کا علم ہے۔ اس لیے اس وصیت کا اعتبار نہیں ہوگا اور مرحومہ عائشہ کا کل مال اس کے تایا کے پوتوں کو ملے گا۔
البتہ اگر وصیت پر کوئی گواہ موجود ہوجائے یا مرحومہ کے ورثہ (تایا کے پوتوں) کی رضا مندی کا علم ہو جائے، تو پھر جن کے لیے مرحومہ نے وصیت کی تھی (زید، عمرو، بکر اور فاطمہ) ان کے درمیان مرحومہ کے کل مال کی ایک تہائی (%33.333) برابر تقسیم ہوگی۔ باقی دو تہائی (%66.667) اس کے تایا زاد بھائی کے بیٹوں عادل اور احسان کو ملے گا۔ بیٹی کلثوم کو اس میں حصہ نہیں ملے گا۔
نیز اگر مرحومہ (عائشہ) کے ورثہ کی رضامندی معلوم ہو جائے کہ وہ مرحومہ کی میراث میں سے اپنا حق نہیں لینا چاہتے بلکہ کل مال دینے پر راضی ہوں، تو پھر کل مال( زید، عمرو، بکر اور فاطمہ) کو ملے گا۔
|
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
ابن از زوجہ اول(زید) |
2 |
25% |
|
ابن از زوجہ اول(عمرو) |
2 |
25% |
|
ابن از زوجہ اول(بکر) |
2 |
25% |
|
بنت از زوجہ اول(فاطمہ) |
1 |
12.5% |
|
میت ثانی (عائشہ)کے تایا کا پوتا(عادل) |
1 |
3.125% |
|
میت ثانی (عائشہ )کے تایا کا پوتا(احسان) |
1 |
3.125% |
|
میت ثانی(عائشہ)کا موصی لھم(زید،عمرو،بکر،فاطمہ) |
1 |
3.125% |
حوالہ جات
(ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية توصون بها أو دين وإن كان رجل يورث كلالة أو امرأة وله أخ أو أخت فلكل واحد منهما السدس فإن كانوا أكثر من ذلك فهم شركاء في الثلث من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار وصية من الله والله عليم حليم)
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 769):
فقال (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) (قوله مع ولد) أي للزوج الميت ذكرا أو أنثى ولو من غيرها .
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 773):
(يحوز العصبة بنفسه وهو كل ذكر) فالأنثى لا تكون عصبة بنفسها بل بغيرها أو مع غيرها…..ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 90):
ويستحب أن يوصي الإنسان بدون الثلث سواء كانت الورثة أغنياء أو فقراء، كذا في الهداية ………ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.ولو أوصى بجميع ماله وليس له وارث نفذت الوصية ولا يحتاج إلى إجازة بيت المال، كذا في خزانة المفتين. ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 374):
ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
21/جمادی الآخرۃ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


