| 89416 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
درج ذیل مسائل کے بارے میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں پچھلے کچھ عرصے سے جناب یوسف بھائی واپی سوشل میڈیا کے ذریعے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی اسلامی بینکاری کے نظام کو بنیاد بنا کر حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ پر سود خور ہونے اور قطعی طور پر حرام سود کو سند جواز فراہم کرنے کے الزامات لگا کر حضرت مفتی صاحب کو گمراہ قرار دینے اور اپنے فالورز کو مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے بد ظن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ہمارے علم کے مطابق سب سے پہلے اس سلسلے میں جناب یوسف بھائی واپی کی مفتی ارشد صاحب دہلی والا سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے مفتی تقی عثمانی صاحب کے لیے بڑے نازیبا الفاظ استعمال کیے مثلاً سود خور ، سرکاری ملا وغیرہ اور جناب یوسف بھائی واپی نے کہا کہ تقی عثمانی کی مذکورہ بینک کاری کو کئی دار الافتاء والوں نے سودی نظام قرار دیا ہے جیسے دار العلوم دیوبند، جامعہ بنوری ٹاؤن اور مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ جیسی شخصیت ، اس لیے تقی عثمانی سود خور ہے اور حرام کو حلال کرنے کی وجہ سے گمراہ ہے ۔ بعد ازاں حضرت مفتی ارشد صاحب دہلی والا نے اپنے ایک یوٹیوب ویڈیو میں اس بات کی وضاحت کی کہ بہت سے دیگر دار الافتاء اور علماء نے اسے اسلامی بینکاری کو جائز بھی قرار دیا ہے مثلاً جامعہ بنوریہ عالمیہ ، جامعۃ الرشید کراچی وغیرہ ۔ اسی طرح دار العلوم دیوبند کے ایک حالیہ استفتاء کےجواب میں وہاں کے مفتیان نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ مفتی تقی عثمانی ماہر مفتی اور جید عالم دین ہےاسلئے ان کے بارے میں قوی گمان یہی ہے کہ جو اسسٹم انہوں نے بنایا ہوگا وہ شرعی حدود کے اندر ہوگا ۔اسی جواب کے منظر عام پر آنے کے بعد جناب یوسف بھائی واپی نے حضرت مفتی محمود الحسن صاحب بلندشہری دامت برکاتہم العالیہ سے فون کال پر ایسی جاہلانہ گفتگو کی جسے سنتے ہی ہر صاحب علم ذی استعداد عالم دین کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ جناب یوسف بھائی واپی کو قطعیات و ظنیات کا کچھ علم نہیں اور فروعی و اصولی مسائل کی حدود و قیود جانے بغیر ہی اس میدان کا شہسوار بننے کی نا کام کوشش کر رہا ہے ۔ بہر حال اس وضاحتی کلام کے بعد آپ کے دار الافتاء سے کچھ سوالات ہیں ۔ سوالات مندرجہ ذیل ہیں:
- ۔کیا مفتی تقی عثمانی صاحب سے اختلاف کرنے والے علماء اپنے اختلاف کی وجہ سے اس بات کے قائل ہیں کہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی مرتب بینکاری بالکل قطعی طور پر ایک سودی نظام ہے ؟
- ۔ کیا یہ اختلاف ظنیات کے دائرے میں ایک علمی و فقہی اختلاف ہے کہ فریق مخالف کا موقف خطالیکن محتمل صواب ہو یا یہ اختلاف قطعیات کے دائرے میں ہے کہ فریق مخالف کا موقف صریح خطا و گمراہی بلکہ کفر ہو ؟
- ۔کیا حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے اس طرح بینکاری کے نظام کو جائز قرار دینے سے حرمت ربا کی قطعیت متأثر ہوگی ؟
- ۔کیا واقعہ یہ ہے کہ حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا موقف جمہور علماء سے ہٹ کر ہے ؟
- ۔ اگر مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا موقف جمہور علماء سے ہٹ کر ہے تو کیا یہ انحراف عن الجمہور ضلالت و گمراہی ہوگی اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اور ان کے تمام ہم خیال علماء گمراہ و ضال ہیں ؟
- ۔کیا جناب یوسف بھائی واپی کا قطعیات و ظنیات کے اصول کو جانے بغیر ایسے مسائل میں کلام کرنا درست ہے ؟
- ۔اس صورتحال میں یوسف واپی بھائی کےلیے کوئی مشورہ دینا چاہے؟ کیا آپ اس سلسلے میں جناب یوسف بھائی واپی کو کچھ ہدایات دینا چاہیں گے ؟ اگر ہاں تو ضرور ارشاد فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب زید مجدہ صاحب نسبت بزرگ، جید مفتی اور فقیہ ہیں۔ عرب و عجم میں علمی اعتبار سے چند گنے چنے لوگوں میں ان کا شمار صف اول میں ہے۔ تاہم اہل علم کے لیے ان کی فقہی و علمی آراء سے اختلاف کی گنجائش ہے، لیکن سوال میں مذکور طرز عمل نامناسب اور افسوسناک ہے۔ سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1۔ متعلقہ دارالافتاؤں سے رابطہ کرکے ان کے موقف کے حوالے سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ وہی اپنا صحیح موقف اور دلائل دینے کے اہل ہیں۔
2۔ یہ دراصل ایک تطبیقی اختلاف ہے۔ مفتی صاحب اور جواز کی رائے رکھنے والے علماء اس نظام کو مضاربت اور تجارت پر مبنی ماڈل ہونے کی وجہ سے جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ عام بینکنگ قوانین کے تحت بینک کے لیے تجارت منع ہوتی ہے، لیکن بینکنگ قوانین میں ترمیم کے ذریعے اسلامی بینکوں کو محدود تجارت کی اجازت دی گئی ہے۔ جو لوگ سابقہ بینکنگ قوانین کو سامنے رکھتے ہیں وہ ناجائز کہتے ہیں، اور جو موجودہ ترمیمات کو مدنظر رکھتے ہیں وہ اسے جائز قرار دیتے ہیں۔
3۔ سود حرام قطعی ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب زید مجدہ نے سود کو جائز نہیں کہا، بلکہ ایسے متبادل تجویز کیے ہیں جن سے سود سے بچتے ہوئے حلال نفع کمایا جاسکتا ہے۔
4۔ پاکستان کے علاوہ مصر، ترکی، شام اور دیگر اسلامی ممالک کے کثیر اہل علم کا موقف یہ ہے کہ غیر سودی بینکاری کا نظام فی نفسہ جائز ہے، بشرطیکہ وہ واقعی شرعی اصولوں، جیسے مرابحہ، شرکت اور دیگر جائز عقود، پر صحیح بنیادوں پر قائم ہو۔ ان کے نزدیک یہ محض نام کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ایسا مالیاتی نظام ہے جس کا مقصد سود سے بچتے ہوئے اسلامی معاشی اصولوں کے مطابق لین دین کو ممکن بنانا ہے۔ مجمع الفقہ الاسلامی، جو کہ دنیا بھر کے ماہر مفتیان کرام کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، ان کا بھی متفقہ فیصلہ اسلامی بینکاری کے جواز کا ہے۔
5۔ اول تو مفتی تقی عثمانی زید مجدہ کا موقف پوری دنیا میں قبول کیا گیا ہے۔ پھر ایک تطبیقی اختلاف کو exactly گمراہی کہنا کسی طرح درست نہیں۔ ہاں، اگر کسی کو اس پر فقہی بنیادوں پر کوئی اشکال ہے تو وہ پیش کیا جاسکتا ہے، اگرچہ ان تمام اشکالات کے جوابات بہت سی کتب اور رسائل میں دیا جا چکا ہے۔
6۔ دینی مسائل میں بغیر مکمل علم اور کسی نظام سے واقفیت کے اس سے متعلق بحث کرنا، اور علماء یا دیگر افراد پر گمراہی کا حکم لگانا، ایک ناپسندیدہ اور مذموم عمل ہے، جس سے محض انتشار بڑھتا ہے۔ ایسے معاملات میں احتیاط، تحقیق اور اہل علم سے رہنمائی لینا ضروری ہے۔
7۔ ان سے گزارش ہے کہ دونوں آراء میں سے جس موقف پر انہیں اطمینان ہو، اس پر عمل کریں، اور پیچیدہ دینی مسائل میں خود رائے دینے اور مستند علماء پر تنقید کرنے سے گریز کریں۔ خاص کر علماء کے خلاف بدزبانی سے ایمان ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔
حوالہ جات
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (19/ 25):
لا تقف: لا تقل أشار به إلى قوله تعالى: {ولا تقف ما ليس لك به علم} (الإسراء: 63) وفسر: (لا تقف) بقوله: (لا تقل) ، أي: في شيء بما لا تعلم، وعن قتادة: لا تقل رأيت ولم تره وسمعت ولم تسمعه وعلمت ولم تعلمه، وهذه رواية عن ابن عباس، وعن مجاهد: ولا ترم أحدا بما ليس لك به علم۔
مجلة مجمع الفقه الإسلامي (6/ 44 ):
«أن البنك الإسلامي ما أنشئ إلا وكان من أوائل أهدافه هو أن يكون بديلا للبنوك الربوية التي طالما أثقلت كواهل الناس بما فرضت من فوائد ربوية وغيرها.»
)ماہنامہ بینات ،جمادی الاولی 1383ھ،/اکتوبر 1963ء, بعنوان فکر و نظر ص:2)
علامہ یوسف بنوری رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: "بینک کا رائج نظام بغیر ربا کے چل نہیں سکتا ،اس لیے آپ کو بینک کے متبادل نظام مضاربت، وکالت، شرکت پر غور کرنا ہوگا جو بلا سود کے چل سکے اور جس سے جدید معاشر ے کے مسائل و مشکلات حل ہو سکیں۔ یہ فیصلہ آپ نہیں کر سکتے کہ بڑے پیمانے پر تجارت یا در آمدو بر آمد (ایراد و صدیر) کا سلسلہ بند کر دیں یا موجودہ نسل اس کو تسلیم کر کے ملک کے اندرونی حصے میں تجارت پر قناعت کرے، لامحالہ آپ مجبور ہیں کہ فقہ اسلامی کی روشنی میں غور کر کے جلد از جلد ان مشکلات کو حل کریں تا کہ جدید نسل اس غلطی میں مبتلا نہ ہو کہ دین السلام عصر حاضر کی مشکل کشائی سے قاصر ہے"۔
معارف القران مفتی شفیع عثمانی رحمہ اللہ /1 678:
’’اس میں پہلی بات یہ ہے کہ سطحی نظر میں بینکنگ کے موجودہ اصول کو دیکھتے ہوئے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بینک سسٹم کا مدار ہی سود پر ہے، اس کے بغیر بینک چل ہی نہیں سکتے ،لیکن یہ خیال قطعا صحیح نہیں ،ربا کے بغیر بھی بینک سسٹم اس طرح قائم رہ سکتا ہے ،بلکہ اس سے بہتر اور نافع و مفید صورت میں ا سکتا ہے البتہ اس کے لیے ضرورت ہے کہ کچھ حضرات ماہرین شریعت اور کچھ ماہرین بینک اصول از سر نو تجویز کریں ،تو کامیابی کچھ دور نہیں، اور جس دن بینک سسٹم شرعی اصول پر آگیا تو ان شاءاللہ دنیا دیکھ لے گی کہ اس میں پوری قوم وملت کی کیسی فلاح ہے، ان اصول و قواعد کی تشریح کا یہ موقع نہیں جن کی بنا پر بینک سسٹم کو بغیر ربا کے چلائے جا سکتا ہے۔‘‘
بذل المجهود في حل سنن أبي داود (11/ 389):
«(عن أبي عثمان الطنبذي) قال في "القاموس": ظنئذ كقنفذ، بلدة بمصر، منها مسلم بن يسار (رضيع عبد الملك بن مروان( قال: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أفتي بصيغة المجهول (بغير علم) أي من أفتاه رجل جاهل بغير علم (كان إثمه على من أفتاه) أي إن عمل على فتوى الجاهل فليس الإثم على العامي الذي استفتى من الجاهل الذي كان بصورة العلماء، ولكن الإثم فيه على المفتي.»
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 134):
ومن أبغض عالماً من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر، ولو صغر الفقيه أو العلوي قاصداً الاستخفاف بالدين كفر، لا إن لم يقصده.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 270):
في النصاب من أبغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر.
اسفندیارخان بن عابد الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25/جمادی الثانیۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


