| 89090 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
دوران ملازمت غفلت اور کوتاہی (ملازم اور ادارہ ) کی طرف سے ہو تو اس کے معاشرتی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی طورپرعقدملازمت کی وجہ سےادارہ اورملازم دونوں پراوقات کی پابندی،بہترکارکردگی،ادارےکےاثاثات کی اچھی طرح دیکھ بھال ودیگرامور لازم ہوجاتےہیں،دونوں پرپابندی کرنا ضروری ہےاور پابندی نہ کرنےکی وجہ سےدونوں شرعا بھی گناہگار ہونگے،اورحد سےزیادہ کوتاہی کی جائےکہ وقت نہ دیاجائےاورتنخواہ وصول کی جائےتووہ شرعا ملازم کےلیےحلال بھی نہ ہوگی،اس کااہتمام بہت ضروری ہے،اس کےعلاوہ درج ذیل معاشی اور معاشرتی نقصانات بھی مرتب ہوسکتےہیں :
کوتاہی اگرملازم کی طرف سےہوتواس کےدرج ذیل اثرات مرتب ہوسکتےہیں :
- ملازم کی کوتاہی سے نہ صرف اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ ترقی اور بہتر ملازمت کے مواقع بھی محدود ہوجاتے ہیں۔
- اگر اصلاح نہ کی جائےاوراحساس ہونےکےباوجود بھی غفلت اور کوتاہی سےنہ رکا جائے تو آمدنی میں بےبرکتی بھی ہوسکتی ہے۔
- مسلسل غفلت کی بنا پر ملازمت سے برطرفی یا تنزلی کی صورت میں خود ملازم اور اس کے خاندان کے معاشی حالات بھی متاثر ہوسکتےہیں۔
کوتاہی اگر ادارےکی طرف سےہوتواس کےدرج ذيل اثرات مرتب ہوسکتےہیں:
۱۔اگرادارےکی طرف سےغفلت اور کوتاہی عام ہوجائےیاخدانخواستہ کسی بڑےنقصان کاسبب بنےتو ادارے سےعوام کااعتماد اٹھ جاتاہے۔
۲۔ادارےکی کوتاہی کی وجہ سےملازمین کی کارکردگی پر بھی لازمی اثر پڑتاہے،ملازمین کی کارکردگی،رویے اورکام سےلگاو اتنہائی حدتک کم ہوجاتاہے۔
حوالہ جات
۔
محمد بن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
25/جمادی الاولی 1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


