03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازم کی اضافی چھٹی کی وجہ سے عام تعطیلات کے دنوں کی تنخواہ کاٹنے کا حکم
89420اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

اگر کوئی ملازم چھٹی کے آس پاس اضافی چھٹی لے لے ، مثلاً: پیر کو چھٹی کرے تو اس کی اتوار بھی ساتھ شمار ہو، یعنی دو دن کی تنخواہ کٹ جائے۔ یا عید کے بعد والا دن چھٹی کرے تو عید کے دن بھی ملا کر تمام دنوں کی تنخواہ کٹ جائے۔ اسی طرح اگر کوئی کشمیر ڈے کی چھٹی کے بعد والے دن چھٹی کرے تو دونوں دنوں کی تنخواہ کٹ جائے۔ کیا اس طرح کی ”سینڈوچ پالیسی“ اسلامی لحاظ سے جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جو تعطیلات ملازمین کو قانونی طور پر یا حکومت کی طرف سے ملنا طے ہے ان  ایام کی تنخواہ کسی بھی صورت ملازمین کی اضافی چھٹی کی وجہ سے ان کی تنخواہ سے کاٹنا جائز نہیں ۔ تاہم اگر  ادارے کی جانب سے کسی وجہ سے ملازمین کو تعطیلات ملے اور ادارے نے ملازمین سے معاہدہ کرتے وقت پہلے سے یہ طے کیا تھا کہ اگر کوئی ملازم  ان تعطیلات سے پہلے ایک دن یا  بعد والے دن بغیر رخصت لیے چھٹی کرے تو اس کو ان تمام  تعطیلات کی  تنخواہ    نہیں ملے گی تو یہ جائز ہے ۔

لہذا سوال میں مذکورہ پالیسی اگر قانونی یا حکومتی تعطیلات کے علاوہ صرف ادارے کی طرف سے ملنے والی تعطیلات  کے بارے میں بنائی جائے اور ملازمین سے معاہدہ کرتے وقت ہی ادارہ   یہ شرط رکھے کہ ان ایام کے آس پاس اضافی چھٹی کرنے کی وجہ سے ان  تمام ایام کی تنخواہ ملازم کو  نہیں ملے گی تویہ جائزہے ۔البتہ اگر پہلے سے کوئی معاہدہ نہ ہو اور بعد میں ادارہ  ان  ایام کی تنخواہ کاٹنا چاہے تو یہ تعزیر بالمال (مالی جرمانہ) ہونے  کی وجہ سے جائز نہیں   ہوگا۔ لہذا  معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اس اضافی چھٹی کی وجہ سے تعطیلات کے  دنوں کی  تنخواہ کو بھی اس دن کی تنخواہ کے  ساتھ ملاکر کاٹنا جائز نہیں ۔ البتہ صرف  انہی دنوں کی تنخواہ کاٹی جائے جن میں ملازم نے بغیر رخصت لیے  چھٹی کی ہو ۔

حوالہ جات

رد المحتار ط : الحلبي  (6/ 69):

"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل(".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري  (8/ 33):

"(والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) يعني ‌الأجير ‌الخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة عمل أو لم يعمل... ولأن منافعه صارت مستحقة للغير والأجر مقابل بها فيستحقه ما لم يمنع مانع من العمل كالمرض والمطر ونحو ذلك مما يمنع التمكن."

رد المحتار ط:  الحلبي  (4/ 62):

"والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

محمد جمال

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

21/جمادی الثانیہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب