| 89421 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
ہم ہر مہینے کی تنخواہ 10 تاریخ کو ادا کرتے ہیں، یعنی مہینہ ختم ہونے کے 10 دن بعد۔ کیا اسلام کے مطابق تنخواہ میں دس دن کی تاخیر جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر پہلے سے معاہدے میں یہ طے ہو کہ ہر مہینہ کی تنخواہ دس دن کے بعدادا کی جائے گی تو یہ تاخیر جائز ہے البتہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں مہینہ کے ختم ہونے کے بعد جلد از جلد ادائیگی ضروری ہوگی ۔
حوالہ جات
رد المحتار ط : الحلبي (6/ 69):
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل(".
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ط: دار الكتب العلمية (4/ 203):
"فالأجرة وإن كانت تجب شيئا فشيئا فقد شرط تأجيل الأجرة، والأجرة كالثمن فتحتمل التأجيل كالثمن... لزم اعتبار شرطهما ؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم» . "
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
21/جمادی الثانیہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


