03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمین کو مقررہ وقت پر تنخواہ نہ دینا
89421اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

ہم ہر مہینے کی تنخواہ 10 تاریخ کو ادا کرتے ہیں، یعنی مہینہ ختم ہونے کے 10 دن بعد۔ کیا اسلام کے مطابق تنخواہ میں دس دن کی تاخیر جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر پہلے سے معاہدے میں یہ طے ہو کہ ہر مہینہ کی تنخواہ دس دن کے بعدادا کی جائے گی تو یہ تاخیر جائز ہے البتہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں  مہینہ کے ختم ہونے کے بعد جلد از جلد ادائیگی ضروری ہوگی ۔

حوالہ جات

رد المحتار ط : الحلبي  (6/ 69):

"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل(".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ط: دار الكتب العلمية (4/ 203):

"فالأجرة وإن كانت تجب شيئا فشيئا فقد شرط تأجيل الأجرة، والأجرة كالثمن فتحتمل التأجيل كالثمن... لزم اعتبار شرطهما ؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم» . "

محمد جمال

دار الافتاء  جامعۃ الرشیدکراچی

21/جمادی الثانیہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب