| 89448 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں کریانہ اسٹور کا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے ذہن میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ بہت سی مشہور کمپنیاں، جیسے کہ Unilever وغیرہ، جن کے پروڈکٹس امریکہ یا مغربی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ، بائیکاٹ لسٹ میں شامل ہیں۔ ایسی اشیاء کو خریدنا اور بیچنا کیا شرعی، اخلاقی یا اصولی طور پر درست ہے؟ کیا ایسی مصنوعات کو اپنے کاروبار میں رکھنا جائز ہے یا ان سے اجتناب کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جن کمپنیوں کی مصنوعات بائیکاٹ کی فہرست میں شامل ہوں، اگر ان کا متبادل ہمارے ملک میں موجود ہو اور مقامی کمپنیاں وہ اشیاء تیار یا فراہم کرتی ہوں، تو ایسی مصنوعات کو اپنے کاروبار میں رکھنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ جس طرح ان کے استعمال میں بائیکاٹ کیا جاتا ہے، اسی طرح کاروبار میں بھی ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔
البتہ وہ ناگزیر اشیاء جن کا کوئی متبادل ہمارے ملک میں موجود نہ ہو اور جن کے بائیکاٹ کی صورت میں خود ہمیں نقصان کا سامنا ہو، ان کا مکمل بائیکاٹ لازم نہیں۔ لہٰذا ضرورت اور حاجت کے پیشِ نظر ایسی اشیاء کا کاروبار جائز ہے۔
حوالہ جات
أحكام القرآن للجصاص (3/ 296) :
(قوله تعالى: ولا تعاونوا على الإثم والعدوان )نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 102) :
ولا بأس بحمل الثياب والمتاع والطعام ونحو ذلك إليهم لانعدام معنى الإمداد والإعانة وعلى ذلك جرت العادة من تجار الأعصار أنهم يدخلون دار الحرب للتجارة من غير ظهور الرد والإنكار عليهم، إلا أن الترك أفضل لأنهم يستخفون بالمسلمين ويدعونهم إلى ما هم عليه فكان الكف والإمساك عن الدخول من باب صيانة النفس عن الهوان والدين عن الزوال فكان أولى.
الفتاوى الهندية(427/5):
لابأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة،إذا كان مما لابد منه.كذا في السراجية.
جواہر الفقہ (355/5):
''بلا ضرورت مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کے ساتھ معاملات نہ کیے جائیں۔''
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
28/جمادی الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


