| 89457 | طلاق کے احکام | عدت کا بیان |
سوال
میرے شوہر نے مجھے پہلی طلاق بذریعہ نوٹس چار ستمبر دو ہزار پچیس کودی جس کے بعد میں نے صلح کے لیے میسج کیا تو میرے شوہر نے کہا میں نے تمہیں دوسری بھی دے دی وہ نوٹس تمہیں مل جاے گا مجھے نوٹس ملا آٹھ اکتوبر کو میرے شوہر نے دوسری طلاق دی پھر تیسری طلاق بذریعہ نوٹس آٹھ نومبر کو دی ان تینوں طلاقوں کے درمیان میرے شوہر نے کسی بھی قسم کا رجوع نہیں کیا اب میری عدت کونسی طلاق سے شروع ہوگی پہلی یا تیسری سے مجھے پہلی طلاق چار ستمبر کو ملی تو پہلا حیض دس ستمبر کو آیا دوسرا حیض تیرہ اکتوبر کو تیسرا حیض گیارہ نومبر اور چوتھا حیض چودہ دسمبر کو براے مہربانی میری عدت کب پوری ہوگی؟
نکتتہ الغور: عدت کی ابتدا کب سے ہوگی اور کب ختم ہوگی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی عدت پہلی طلاق واقع ہونے کے بعد ہی سے شروع ہوگئی تھی ، دوران عدت دوسری یا تیسری طلاق واقع ہونے سے عدت پر کوئی فرق نہیں پڑا ۔لہذا آ پ کی عدت تیسرے حیض )جوکہ گیارہ نومبر کو شروع ہوا تھا (سے پاکی حاصل ہوتے ہی پوری ہوگئی ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع،89/3)ص(:
ثم اذا وقع علیھا ثلاث تطلیقات فی ثلاثۃ اطھار فقد مضی من عدتھا حیضتان ان کانت حرۃ لان العدۃ بالحیض عندنا وبقیت حیضۃ واحدۃ فاذا حاضت حیضۃ اخری فقد انقضت عدتھا الخ ...
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي ).4/ 329(:
قوله وابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق) لأن سبب وجوب العدة الطلاق تساهل، فقد قدموا أن سببها النكاح والطلاق شرط وأن الإضافة في قولنا عدة الطلاق إلى الشرط، فالأولى أن يقال لأن عند الطلاق والموت يتم السبب فيستعقبها من غير فصل فيكون مبدأ العدة من غير فصل بالضرورة.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية،) 1/ 531ص(:
ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية). 1/ 532(:
فالأصل أن المعتدة بعدة الطلاق يلحقها الطلاق والمعتدة بعدة الوطء لا يلحقها الطلاق.
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
28/جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


