03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدت کی ابتدا پہلی طلاق کے بعد ہوگی یا تیسری طلاق کے بعد
89457طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

میرے شوہر نے مجھے پہلی طلاق بذریعہ نوٹس چار ستمبر دو ہزار پچیس کودی جس کے بعد میں نے صلح کے لیے میسج کیا تو میرے شوہر نے کہا میں نے تمہیں دوسری بھی دے دی وہ نوٹس تمہیں مل جاے گا مجھے نوٹس ملا آٹھ اکتوبر کو میرے شوہر نے دوسری طلاق دی پھر تیسری طلاق بذریعہ نوٹس آٹھ نومبر کو دی ان تینوں طلاقوں کے درمیان میرے شوہر نے کسی بھی قسم کا رجوع نہیں کیا اب میری عدت کونسی طلاق سے شروع ہوگی پہلی یا تیسری سے مجھے پہلی طلاق چار ستمبر کو ملی تو پہلا حیض دس ستمبر کو آیا دوسرا حیض تیرہ اکتوبر کو تیسرا حیض گیارہ نومبر اور چوتھا حیض چودہ دسمبر کو براے مہربانی میری عدت کب پوری ہوگی؟

نکتتہ الغور:  عدت کی ابتدا کب سے ہوگی اور کب ختم ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کی عدت پہلی طلاق واقع ہونے کے بعد ہی  سے شروع ہوگئی تھی ، دوران عدت   دوسری یا تیسری طلاق  واقع ہونے سے  عدت پر کوئی فرق نہیں پڑا ۔لہذا آ پ کی عدت  تیسرے  حیض )جوکہ گیارہ نومبر  کو شروع ہوا تھا  (سے پاکی حاصل ہوتے ہی پوری ہوگئی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع،89/3)ص(:

ثم اذا وقع علیھا ثلاث تطلیقات فی ثلاثۃ اطھار فقد مضی من عدتھا حیضتان ان کانت حرۃ لان العدۃ بالحیض عندنا وبقیت حیضۃ واحدۃ فاذا حاضت حیضۃ اخری فقد انقضت عدتھا الخ ...

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي ).4/ 329(:

قوله وابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق) لأن سبب وجوب العدة الطلاق تساهل، فقد قدموا أن سببها النكاح والطلاق شرط وأن الإضافة في قولنا عدة الطلاق إلى الشرط، فالأولى أن يقال لأن عند الطلاق والموت يتم السبب فيستعقبها من غير فصل فيكون مبدأ العدة من غير فصل بالضرورة.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية،) 1/ 531ص(:

ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية). 1/ 532(:

فالأصل أن المعتدة بعدة الطلاق يلحقها الطلاق والمعتدة بعدة الوطء لا يلحقها الطلاق.

سلیم اصغر بن محمد اصغر

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

28/جمادی الثانیہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب