03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی فضیلت سے متعلق ایک حدیث کی تحقیق(حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہوں گےکا مطلب ومفہوم)
89388حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ​’’ابوبکرؓ اور عمرؓ پہلے اور پچھلے تمام اہلِ جنت کے کہول (بڑے/ادھیڑ عمر کے لوگوں) کے سردار ہیں، سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔ اے علی، انہیں مت بتانا۔‘‘ ​[حضرت علی نے فرمایا: "چنانچہ  میں نے ان کے انتقال تک یہ بات انہیں نہیں بتائی۔"]

 (اس حدیث کو امام طحاوی نے شرح مشكل الآثار میں بھی بیان کیا ہے۔ اور اس کی شرح میں بتایا ہے کہ کہول کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ نوجوانوں کے سردار تو حسن اور حسین رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس سے جہاں ان دو کبار صحابہ کے مرتبے کا علم ہوتا ہے وہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کمال اطاعت بھی ظاہر ہوتا کہ ان حضرات کی زندگی میں کبھی یہ حدیث نہیں بیان کی۔ اس نہ بتانے کی حکمت تو آپ ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، مگر علماء کا خیال ہے کہ آپ ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ ان بزرگوں کے دلوں میں عجب پیدا ہو جائے، یا ممکن ہے کوئی اور وجہ ہو۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں اپنے محبوب ﷺ کے اصحاب کی قدر نصیب فرمائے۔ آمین

سوال یہ ہے کہ کیا یہ روایت سندا صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان کا کیا مطلب ہے؟ کہ میں ان کی زندگی تک یہ حدیث بیان نہیں کی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کی فضیلت پر مشتمل محدثین کرام نے مختلف طرق سے مروی  مختلف روایات نقل کی ہیں، ان میں سےبعض مختصر اور بعض میں کچھ اضافہ منقول ہے، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

پہلی روایت:

 اس روایت کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں درج ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

سنن الترمذي ت شاكر (5/ 610) الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي – مصر:

حدثنا الحسن بن الصباح البزار قال: حدثنا محمد بن كثير، عن الأوزاعي، عن قتادة، عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر وعمر: «هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين». هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه.

یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور یہ سب سے مختصر روایت ہے، کیونکہ اس میں صرف اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت  ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما انبیاء اور رسولوں کے علاوہ سب اولین وآخرین کے کہولت کو پہنچے ہوئے لوگوں کے سردار ہوں گے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے علاوہ اس روایت کو امام ابن ماجہ، امام احمد بن حنبل، امام ابوبکر بن ابی عاصم، امام طحاوی، امام بزار اور دیگر بہت سے محدثین کرام رحمہم اللہ نے ذکر فرمایا ہے، اس روایت پر امام ترمذی رحمہ اللہ نے  حسن کا حکم لگایا ہے، جبکہ بعض معاصر علمائے کرام نے اس پر صحیح کا حکم لگایا ہے، لہذا یہ روایت قبول ہے اور اس سے حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کی فضیلت پر استدلال کرنا درست ہے۔

دوسری روایت:

اس روایت کو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے  اپنی کتاب فضائل صحابہ میں درج ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل (1/ 443) الناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت:

709 - حدثنا يحيى قثنا محمد بن عمرو بن سليمان، نا هشيم قال: أنا مالك بن مغول، عن الشعبي، وأبو إسحاق الكوفي عن الشعبي، عن علي قال: أقبل أبو بكر وعمر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكل واحد منهما آخذ بيد صاحبه، قال: فلما رآهما قال: «هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين، لا تخبرهما يا علي»

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل (1/ 442) الناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت:

حدثنا يحيى قثنا محمد بن عبد الله المخرمي، نا ورد بن عبد الله المخرمي، نا محمد بن طلحة بن مصرف، عن عبد الأعلى الثعلبي، عن الشعبي، عن علي قال: كنت جالسا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ليس معنا إلا الله، فرأى أبا بكر وعمر فقال: «هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين، لا تخبرهما يا علي» .

اس روایت کو امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام ابن ابی شیبہ، امام احمد بن حنبل اور امام طحاوی رحمہم اللہ وغیرہ نے مختلف طرق سے نقل  کیا ہے اور یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہےاور اس میں کچھ اضافہ منقول ہے، وہ یہ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا ذکر فرمانے کے بعد  یہ بھی ارشاد فرمایا کہ آپ ان کو اس بات کی خبر نہ دینا۔ اس روایت کے بعض طرق سندا صحیح ہیں اور ان میں کوئی راوی ضعیف نہیں، اور اس کی سند میں انقطاع اور متن میں بھی نہیں ہے، اسی لیے بعض معاصرمحققین نے امامِ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی کتاب فضائل صحابہ مذکورہ روایت کے بعض طرق پر صحت کا حکم لگایا ہے۔ اس لیے اس روایت میں ذکر کیا گیا اضافہ درست ہے۔

 البتہ سنن ابن ماجہ میں ذکر کیے گئے اس روایت کے ایک طریق میں "ما داما حيّين" کا بھی ذکر ہے، یہ طریق سنداً ضعیف ہے، کیونکہ اس میں حارث نامی راوی ہے، جس کو محدثین کرام نے ضعیف قرار دیا ہے اور ضعیف راوی کا اضافہ ثابت نہیں مانا جاتا، کیونکہ ثقات کی روایت میں یہ اضافہ منقول نہیں، نیز جب سنن ترمذی میں ذکر کی گئی روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خود حضراتِ شیخین کو یہ بشارت سنانے کا ذکر موجود ہے تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عمر بھر بتانے سے منع کرنے کا کیا مطلب؟ لہذا یہ جملہ ثقات سے مروی پہلی روایت کے معارض ہونے کی وجہ سے بھی قبول نہیں، باقی حارث اعور نامی راوی سے متعلق  مزید تفصیل اگلے طریق میں آ رہی ہے۔

سنن ابن ماجه (1/ 36) الناشر: دار إحياء الكتب العربية:

95 - حدثنا هشام بن عمار قال: حدثنا سفيان، عن الحسن بن عمارة، عن فراس، عن الشعبي، عن الحارث، عن علي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أبو بكر وعمر سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين، إلا النبيين والمرسلين، لا تخبرهما يا علي ما داما حيين»

تیسری روایت:

تیسری روایت کو امام طحاوی رحمہ اللہ نے شرح مشکل الآثار میں  درج ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

شرح مشكل الآثارلأبي جعفر الطحاوي (5/ 218) الناشر: مؤسسة الرسالة:

1964 - حدثنا بكار قال: حدثنا إبراهيم بن أبي الوزير قال: حدثنا محمد بن أبان , عن أبي جناب , عن الشعبي , عن زيد بن يثيع , عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: كنت عند

النبي صلى الله عليه وسلم , فأقبل أبو بكر وعمر رضي الله عنهما فقال: " يا علي , هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين , ما خلا النبيين والمرسلين , لا تخبرهما يا علي " فما حدثت به حتى ماتا.

اس روایت کو امام ابن ماجہ اور امام  ابوبکرمحمدبن حسین آجری نے بھی  ذکر کیا ہے،  اس میں مزید  یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کے وفات پانے تک کسی کے سامنے یہ حدیث بیان نہیں کی، اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ  اس روایت کے تمام طرق کا مدار حارث اعور نامی راوی پر ہے، جس پر محدثین کرام کی طرف سے جرح کی گئی ہے،چنانچہ امام ابن سعد رحمہ اللہ نے اس کو روایت کے باب میں ضعیف قرار دیا،  امام دارقطنی رحمہ اللہ نے فرمایا "لا یحتج بہ" یعنی اس کی روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں دو جگہوں پر اس راوی پر جرح کی ہے، ایک جگہ فرمایا: " لا يحتج بخبره لطعن الحفاظ فيه." یعنی حفاظ کے حارث پر طعن کرنے کی وجہ سے اس کی روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا اور دوسری جگہ پر حارث کے ساتھ دیگر دو حضرات حجاج بن أرطاة ومعمر بن سليمان کو بھی شامل کر کے فرمایا کہ ان سب کی روایت سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔ اسی بناء پر حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں "ليس بقوي" کے الفاظ ذکر کیے ہیں، نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس راوی کے شیعہ ہونے کی بھی تصریح کی ہے۔

اس لیے یہ روایت ضعیف ہے، اگرچہ اس میں ضعفِ شدید نہیں، کیونکہ اس راوی پر کسی نے جرحِ شدید نہیں کی، لیکن اس کے باوجود اس روایت میں ذکر کیا گیا اضافہ اصولِ حدیث کی روشنی میں معتبر نہیں، کیونکہ ثقات سے مروی پہلی دونوں روایات میں یہ اضافہ " فما حدثت به حتى ماتا" [حضرت علی نے فرمایا: " میں نے ان کے انتقال تک یہ بات انہیں نہیں بتائی] منقول نہیں اور محدثین کرام کی تصریح کے مطابق زیادة الثقہ تو قبول ہے، زیادة الضعیف قبول نہیں۔ اس لیے حارث اعور نامی راوی اس اضافہ کے بیان کرنے میں متفرد ہے، اس لیے اس کی روایت میں ذکر کیا گیا اضافہ قبول نہیں اور اس جملے کو  ثابت نہیں مانا جائے گا۔

شرح مشكل الآثارلأبي جعفر الطحاوي (5/ 218) الناشر: مؤسسة الرسالة:

1965 - حدثنا ابن أبي مريم قال: حدثنا جدي قال: حدثنا سفيان بن عيينة , عن إسماعيل بن أبي خالد , عن الشعبي , عن الحارث , عن علي , فذكر مثله , غير أنه لم يذكر قوله: فما حدثت به حتى ماتا.

الشريعة للآجري (4/ 1848) أبو بكر محمد بن الحسين بن عبد الله الآجُرِّيُّ البغدادي (المتوفى: 360هـ) الناشر: دار الوطن - الرياض:

1314 - حدثنا أبو بكر بن أبي داود قال: حدثنا المسيب بن واضح السلمي قال: حدثنا سفيان بن عيينة , عن فراس , عن الشعبي , عن الحارث , عن علي رضي الله عنه قال: كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقبل أبو بكر وعمر رضي الله عنهما , فقال: «يا علي , هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا [ص:1849] النبيين والمرسلين , لا تخبرهما يا علي» قال: فما أخبرتهما حتى ماتا.

الطبقات الكبرى (6/ 168) ط دار صادر:

الحارث الأعور بن عبد الله بن كعب بن أسد بن خالد بن حوث واسمه عبد الله بن سبع بن صعب بن معاوية بن كثير بن مالك بن جشم بن حاشد بن خيران بن نوف بن همدان وحوث هو أخو السبيع رهط أبي إسحاق السبيعي، وقد روى الحارث عن علي وعبد الله بن مسعود وكان له قول سوء وهو ضعيف في روايته.

من تكلم فيه الدارقطني في كتاب السنن من الضعفاء والمتروكين والمجهولين (1/ 48):

الحارث الأعور: عن علي قال: "هو كلام" يعني: الفتح على الإِمام. قال الدارقطني: الحارث لا يحتج به.

السنن الكبرى للبيهقي (6/ 438) دار الكتب العلمية، بيروت:

أنا الربيع بن سليمان قال: قال الشافعي: وقد روي في تبدية الدين قبل الوصية حديث عن النبي صلى الله عليه وسلم لا يثبت أهل الحديث مثله. قال الشافعي: ثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن الحارث، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم " قضى بالدين قبل الوصية"[ص:438] قال الشيخ: امتناع أهل الحديث عن إثبات هذا لتفرد الحارث الأعور بروايته عن علي رضي الله عنه , والحارث لا يحتج بخبره لطعن الحفاظ فيه.

السنن الكبرى للبيهقي (6/ 72) دار الكتب العلمية، بيروت:

11233 - وعن الحجاج، عن عطاء قال: كان يقال: يترادان الفضل بينهما. الحارث الأعور والحجاج بن أرطاة ومعمر بن سليمان غير محتج بهم.

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان"لا تخبرهما يا علي" کا مطلب:

جہاں تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان"لا تخبرهما يا علي" کی تشریح کا تعلق ہے تو محدثین کرام نے اس کی شرح یہ بیان فرمائی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علی وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوبتانےسے اس لیے منع فرمایا تھا کہ اتنی بڑی فضیلت ان کو خود سنانا چاہتے تھے، تاکہ ان کو زیادہ خوشی محسوس ہو۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خود ان کو یہ فضیلت سنانے کا ذکر موجود ہے۔

باقی سوال میں اس جملے کا جو یہ مطلب ذکر کیا گیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں عجب میں مبتلا ہونے کا اندیشہ تھا تو اس کا ثبوت کسی کتاب میں نہیں ملا، بلکہ بعض شراحِ حدیث جیسے ملا علی قاری رحمہ اللہ وغیرہ نے اس کا رد کیا ہے اورعلامہ کلاباذی رحمہ اللہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بات درست  دو وجہ سے درست نہیں:

پہلی وجہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے کم درجے کے صحابی حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کو ایک بہت بڑی فضیلت سنا چکے تھے کہ وہ سترہزارلوگوں کو بلاحساب جنت میں لے کر جائیں گے تو جب ان کے بارے میں عجب کا اندیشہ نہیں کیا گیا تو حضراتِ شیخین کے بارے میں بدرجہ اولیٰ یہ گمان نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری وجہ: جس شخص کے بارے میں عجب کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو وہ اتنی بڑی فضیلت کا مستحق نہیں ہو سکتا، لہذا جب یہ دونوں حضرات اس فضیلت کے مستحق ٹھہرائے گئے تو پھر ان کے بارے میں عجب میں مبتلا ہونے کا گمان نہیں کیا جا سکتا۔

حوالہ جات

بحر الفوائد المسمى بمعاني الأخبار للكلاباذي (ص: 63) دار الكتب العلمية – بيروت:

قال الشيخ رحمه الله: معنى قوله صلى الله عليه وسلم: «يا علي لا تخبرهما» ، يجوز أن يكون ذلك على معنى لا تخبرهما قبلي، كأن صلى الله عليه وسلم أراد أن يكون هو المخبر لهما،  والمبشر لهما بهذه البشارة، ليكون ذلك أجل قدرا، وأعظم موقعا، ويكون فضل السبق بالبشارة له، وتكون هذه الفضيلة من الفضائل التي لا تكون إلا له صلى الله عليه وسلم وليس ذلك إن شاء الله على مخافة الفتنة عليهما، فقد أخبرهما رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك، وبما هو أعظم منه بقوله: «إن أهل الجنة ليرون أهل [ص:64] عليين، كما ترون الكوكب الدري في أفق السماء، وإن أبا بكر وعمر رضي الله عنهما منهم، وأنعما» وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ودخل المسجد، وأبو بكر وعمر أحدهما عن يمينه والآخر عن شماله، وهو آخذ بأيديهما، وقال: «هكذا نبعث يوم القيامة» . وقد تبين في هذا الحديث وغيره من الأخبار أنه أخبرهما فلو كان قوله: «يا علي لا تخبرهما» حفظا لمواضع الفتنة عليهما لم يخبرهما، وكيف يخاف عليهما الفتنة وهو يعلم أنهما بهذه الصفة؟ والمفتون لا يستحق هذه الفضيلة، ولا ما هو دونها، ومن بلغت رتبته هذه الرتبة عصم من الفتنة، والإعجاب بالنفس؛ لأن الإعجاب بالنفس من المهلكات، ومن كان بهذه الصفة لا يجوز أن يهلك، وقد أخبر النبي صلى الله عليه وسلم بمثل ما أخبرهما به من هو دونهما في الفضيلة مثل عكاشة حين قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يدخل من أمتي الجنة سبعون ألفا بغير حساب» ، فقال عكاشة رضي الله عنه:

ادع الله أن يجعلني منهم، فقال: «أنت منهم» . وقال لبلال: «سمعت خشخشتك في الجنة بين يدي» [ص:65] وكثيرا من أصحابه بشرهم بالجنة، ولم يخف عليهم الفتنة، لعلمه أنهم يعصمون عن الفتنة ليتم مراد الله فيهم، فكيف بهما وهما رضي الله عنهما بحيث لا يدانيهما في الفضل أحد من الناس من الأولين والآخرين بعد الأنبياء والمرسلين صلوات الله عليهم.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (9/ 3913) الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان:

(ولا تخبرهما يا علي) ربما سبق إلى الوهم أنه - عليه السلام - خشي عليهما العجب والأمن، وذلك وإن كان من طبع البشرية إلا أن منزلتهما عنده - صلى الله عليه وسلم - أعلى من ذلك، وإنما معناه والله لا تخبرهما يا علي قبلي لأبشرهما بنفسي فيبلغهما السرور مني.

التيسير بشرح الجامع الصغير (1/ 18) الناشر: مكتبة الإمام الشافعي – الرياض:

(أبو بكر) عبد الله أو عتيق أمير الشاكرين الصديق (وعمر) الفاروق الفار منه الشيطان (سيدا كهول أهل الجنة) أي الكهول عند الموت إذ ليس في الجنة كهول فاعتبر ما كانوا عليه عند فراق الدنيا (من الأولين والآخرين) أي الناس أجمعين (إلا النبيين والمرسلين) زاد في رواية يا علي لا تخبرهما أي قبلي ليكون إخباري لهما أعظم لسرورهم.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

28/جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب