| 89514 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص انتقال کر گیا، اس کی وراثت میں بیوہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ سب سے بڑی جائیداد گھر ہے جو تین حصوں میں تقسیم ہے: بیوہ میزینائن فلور پر ایک چھوٹے سے یونٹ میں رہتی ہیں۔ ایک بیٹا اسی گھر میں الگ پورشن میں مفت (بغیر کرایہ دیے) ماں کے ساتھ رہتا ہے۔ گراؤنڈ فلور کرایہ پر دیا گیا ہے اور سارا کرایہ براہِ راست بیوہ کو ملتا ہے۔ اس گھر کے علاوہ بیوہ کے پاس کوئی اور جائیداد یا آمدنی کا ذریعہ نہیں، سوائے مرحوم شوہر کی معمولی سی پنشن کے۔ دوسرا بیٹا امریکہ میں اپنی محنت سے بنائے گھر میں رہتا ہے اور اس نے باپ کی جائیداد سے کچھ نہیں مانگا۔ دو بیٹیاں کرائے کے گھروں میں رہتی ہیں؛ ایک بیوہ ہے اور دوسری کے شوہر بیمار ہیں، دونوں کے پاس اپنا گھر نہیں۔ تیسری بیٹی اپنے شوہر کی جائیداد والے گھر میں رہتی ہے۔ اب وہ بیٹا جو ماں کے ساتھ مفت رہتا ہے، گھر بیچنے کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ اسے اپنا حصہ نقد مل جائے۔ باقی بچے اور بیوہ اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ اس سے بوڑھی ماں بے گھر ہو جائے گی اور اس کی ماہانہ آمدنی کا اہم ذریعہ ختم ہو جائے گا. سوال یہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق اس صورتِ حال میں کیا حکم ہے؟ کیا بیٹے کو گھر بیچنے پر مجبور کرنے کا حق ہے یا بیوہ کی رہائش اور نفقہ کی حفاظت مقدم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میت کے انتقال کے بعد اس کے اہم شرعی حقوق میں سے ایک میراث کی تقسیم ہے۔ ورثہ کی رضامندی کے بغیر میراث روکنا یا تاخیر کرنا گناہ ہے، اس لیے بیٹے کو اپنے حصۂ میراث کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر ترکہ میں شامل گھر کو فروخت کیے بغیر میراث کی تقسیم ممکن ہو تو اسی طریقے سے تقسیم کی جائے، اور اگر بغیر فروخت کے تقسیم ممکن نہ ہو تو گھر فروخت کرکے مطالبہ کرنے والے وارث کو اس کا شرعی حصہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
اسی طرح بیوہ کی رہائش یا نفقہ کے نام پر میراث کی تقسیم روکنا جائز نہیں۔ اگر بیوہ کا نان و نفقہ اس کے حصۂ میراث سے پورا ہو جائے تو بہتر، ورنہ بیٹوں پر اس کا نفقہ واجب ہے۔ البتہ اس میں یہ صورت بھی ہوسکتی ہےکہ مکان کی قیمت لگا کر مطالبہ کرنے والے وارث سے اس کا حصہ خرید لیا جائے چاہے سب ورثہ مل کر خریدیں یا کوئی ایک خرید لے پھر اپنی مرضی سے تمام ورثہ والدہ کو اس گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں۔
حوالہ جات
کل من الشرکاء في شرکة الملك أجنبي في حصة سائرهم، فلیس أحدهم وکیلاً عن الآخر، ولایجوز له من ثم أن یتصرف في حصة شریکه بدون إذنه".
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 168)
إذا طلب بعض الشركاء القسمة يجبر الآبي على القسمة في متحد الجنس سواء كان من ذوات الأمثال، أو لا
البحر الرائق:۴/۲۳۳
قوله و لأبويه و أجداده و جداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء أما الأبوان فلقوله تعالى (و صاحبهما في الدنيا معروفا) أنزلت في الأبوين الكافرين و ليس من المعروف أن الابن يعيش في نعم الله تعالى و يتركهما يموتان جوعا… و شرط الفقر لأنه لو كان ذا مال فإيجاب النفقة في ماله أولى من إيجابها في مال غيره…
مجلۃ الاحکام العدلیہ:۲۱۷
" إذا طلب أحد الشريكين القسمة وامتنع الآخر فيقسمه القاضي جبرا إن كان المال المشترك قابلا للقسمة وإلا فلا يقسمه
عبداللہ المسعود
دارالافتا ء،جامعۃالرشید کراچی
۲۸⁄جمادی الاخری ⁄۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


