03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز ظہر کس وقت پڑھنی چاہیے؟
89502نماز کا بیاناوقاتِ نمازکا بیان

سوال

 ہماری مسجد میں سارا سال نماز ظہر 1:30 پر ہوتی ہے۔ بعض نمازی حضرات امام مسجد پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ حدیث اور سنت کے خلاف ہے، سردی میں ایک بجے نماز ہونی چاہیے۔ امام مسجد کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں، یہ استحبابی حکم ہے کوئی واجب نہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کس کا مؤقف درست ہے، آیا امام کا یا مقتدیوں کا؟ از راہ کرم احادیث کی روشنی میں مدلل جواب دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز ظہر کا وقت زوال کے بعد سے شروع ہوکر کسی شے کے سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل ہوجانے تک  رہتا ہے۔ چنانچہ اس دورانیہ میں کسی بھی وقت ظہر کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ البتہ مستحب عمل یہ ہے کہ سردی میں ذرا جلدی نماز پڑھی جائے اور گرمی میں تھوڑی تاخیر سے نماز پڑھی جائے۔ اس میں بھی یہی حکمت ہےکہ لوگ آسانی سے اور زیادہ جمع ہوسکیں،اورعوام کو تکلیف نہ ہو۔ اگر وقت مقرر کرنے  کی وجہ سے یہ حکمت حاصل ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔  لہذا اگر کسی علاقہ میں امام مسجد تمام نمازیوں کی رعایت رکھتے ہوئے 1:30 بجے ظہر کی نماز پڑھاتا ہے، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية: (ج:1،ص:51،ط:دارالفکر)

  "ووقت الظهر من الزوال إلى بلوغ الظل مثليه سوى الفيء. كذا في الكافي وهو الصحيح... ويستحب تأخير الظهر في الصيف وتعجيله في الشتاء. هكذا في الكافي سواء كان يصلي الظهر وحده أو بجماعة."

الأصل: (ج:1،ص:122،ط:دار ابن حزم)

 "قلت: أرأيت وقت الظهر متى هو؟ قال: من حين تزول الشمس إلى أن يكون الظل قامة في قول أبي يوسف ومحمد. وقال أبو حنيفة: لا يدخل وقت العصر حتى يصير الظل قامتين، فإذا صار الظل قامتين دخل وقت العصر."

سید سمیع اللہ شاہ سید جلیل شاہ

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

29/ جمادی الاخری/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب