03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کلاؤڈ نوڈ کمپنی کے ذریعے کاروبار کی شرعی حیثیت
89469خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

*: *Cloud Noed* ایک آن لائن کمپنی ہے جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ: 1. یہ کمپنی اپنے سرمایہ کارسے ایک مخصوص رقم Investmentبطور سرمایہ وصول کرتی ہے۔ 2. اس رقم سے کمپنی اپنے طور پر کوئی مشین یا آن لائن سسٹم خریدتی ہے جو کلاؤڈ مائننگ یا آن لائن ڈیجیٹل کاروبار سے منسلک ہوتا ہے۔ 3. مشین سرمایہ کار کے نام پر خریدی جاتی ہے (دعویٰ کیا جاتا ہے) لیکن نہ میں اس پر براہ راست تصرف کر سکتا ہوں، نہ دیکھ سکتا ہوں، اور نہ ہی اس کو فروخت یا کرایہ پر دینے کا اختیار رکھتا ہوں۔ 4. کمپنی اس مشین کو اپنی نگرانی میں چلاتی ہے اور ہر مہینے یا مخصوص مدت (مثلاً 10 ماہ) تک مجھے متعین منافع دیتی ہے۔ 5. معاہدے میں طے شدہ مدت کے بعد کمپنی اصل سرمایہ واپس کرتی ہے یا تجدید کی پیشکش کرتی ہے۔ 6. مشین یا آن لائن سسٹم کا مکمل کنٹرول کمپنی کے پاس ہوتا ہے، میں صرف نفع کا دعوے دار ہوتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ:* 1. کیا ایسا کاروبار شرعی لحاظ سے جائز ہے؟ 2. کیا ایسی صورت میں جب مجھے نہ مشین پر قبضہ حاصل ہو، نہ اس پر تصرف کا اختیار ہو، اس کو "ملکیت" تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ 3. اگر نفع طے شدہ اور معین ہو، تو کیا یہ معاملہ "سود" کے زمرے میں تو نہیں آئے گا؟ 4. کیا اس سرمایہ کاری میں "غرر" (غیرواضح نتیجہ) یا "قمار" (جوا) کا پہلو پایا جاتا ہے؟ تاکہ مجھے اس بزنس میں شمولیت یا عدم شمولیت کا واضح شرعی حکم معلوم ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یاد رہے کہ عوام سے بڑے پیمانے پر انویسٹمنٹ لینے کے لیے ایک  ایسی کمپنی کے طور پر  SECP  میں رجسٹرہونا ضروری ہے جسے عوام سے فنڈ لینے کی اجازت ہو۔ قانونی طور پر کسی  عام کمپنی کو عوام سے سرمایہ لینا جائز نہیں ہے ۔

ہماری معلومات کے مطابق اس کمپنی کو عوام سے انویسٹمنٹ لینے کی اجازت نہیں ہے، لہذااس میں سرمایہ کاری ناجائز ہے ۔اگر کسی کمپنی کو عوام سے سرمایہ لینے کی اجازت ہو تو پھر دیکھا جائے گا کہ ان کے فنڈ لینے ، کاروبار کرنے اور نفع دینے کا طریقہ شرعاً درست ہے یا نہیں ۔ایسی صورت میں اگر کوئی کمپنی SECPسےشریعہ سرٹیفائیڈ ہے، یا اس نے اپنے طور پر کاروبار کو حلال اصولوں پر اٹھایا ہے اور کسی مستند دارالافتاءیا مفتی کی نگرانی میں اس کا جائزہ لیا ہے،تو یہ دونوں صورتیں قابل قبول ہو سکتی ہیں۔

حوالہ جات

أحكام القرآن للجصاص (1/ 312):

"يعني:  أموال بعضكم على بعض، وأكل المال بالباطل على وجهين، أحدهما:  أخذه على وجه الظلم والسرقة والخيانة والغصب وما جرى مجراه، والآخر:  أخذه من جهة محظورة نحو القمار."

صحيح البخاري ط: السلطانية  (1/ 20):

عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول: سمعت رسول الّله صلى الّله عليه وسلم يقول: "الحلال ‌بين والحرام بين، وبينهما مشبهات، لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات كراع يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا إن حمى الّله في أرضه محارمه."

حنبل اکرم

دارالافتاء، جامعۃ الرشید ،کراچی

28/جمادی الثانیہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب