03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح ختم ہونے کے بعد طلاق معلق کے واقع ہونے کا حکم
89485طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

برائے کرم میری رہنمائی فرمائیں۔ میرے تین سوالات ہیں:

.1میرے شوہر نے مجھے کہا: اگر تم نے چچا سے بات کی تو یہ نکاح حرام ہے۔  اس دوران میں نے چچا سے بات نہیں کی۔ پھر پانچ ماہ بعد شوہر نے ایک طلاق کا تحریری نوٹس بھیج دیا۔ اس کے بعد تین ماہ عدت بھی گزر گئی، شوہر نے رجوع نہیں کیا اور نکاح ختم ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے چچا سے بات کر لی۔ تو کیا اس صورت میں دو طلاقیں واقع ہوں گی یا ایک طلاق شمار ہوگی؟

.2اگر شوہر کے مطابق انہوں نے عدت کے دوران رجوع کر لیا تھا اور رجوع کے بعد بیوی نے چچا سے بات کر لی، تو کیا اس صورت میں دو طلاقیں واقع ہوں گی؟

.3میرے شوہر نے مجھ سے صاف الفاظ میں کہا: "اگر تم نے چچا سے بات کی تو یہ نکاح حرام ہے۔" اس بات میں نہ وقت کی کوئی قید رکھی گئی اور نہ ہی اجازت کی کوئی شرط رکھی گئی۔ بیوی اس بات پر قسم بھی کھا رہی ہے۔ مگر شوہر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کہا تھا: "اگر تم چچا سے میری اجازت کے بغیر بات کرو گی تو نکاح حرام ہے۔" شوہر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اجازت کی شرط رکھی تھی اور اب وہ اجازت دے رہے ہیں، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تو کیا اس معاملے میں شوہر کی بات کا اعتبار ہوگا یا بیوی کی بات کا؟ اور اگر شوہر کی بات سچ نہ ہو تو اس معاملے میں گناہ گار کون ہوگا؟جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

.1 مذکورہ مسئلہ میں پہلی صورت میں صرف ایک طلاق واقع ہوئی ہے، چونکہ بیوی نے نکاح ختم ہونے کے بعد چچا سے بات کی، اس لیے شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی۔

.2 اگر شوہر کے مطابق انہوں نے عدت کے دوران رجوع کر لیا تھا اور رجوع کے بعد بیوی نے چچا سے بات کر لی، تو پھر دو طلاقیں شمار ہوں گی۔ چونکہ شوہر نے لفظ "حرام" کو شرط کے ساتھ معلق کیا تھا، اور لفظ "حرام" سے طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے،اس لیے دوسری صورت میں تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہوگا۔

.3 مذکورہ صورت میں اگر شوہر کہہ رہا ہے کہ میں نے شرط کو اجازت کے ساتھ مقید کیا تھا، تو شوہر کی بات کا اعتبار ہوگا۔ اگر شوہر نے اجازت دی ہو تو بیوی کے چچا سے بات کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اور اگر شوہر جھوٹ بولتا ہے تو اس کا گناہ صرف شوہر پر ہوگا۔

نیزجب شوہر نے بیوی کی طلاق کو چچا سے بات کرنے پر معلق کیا اور وہ شرط ایک دفعہ پائی گئی، چاہے وہ نکاح کے دوران پائی گئی ہو یا نکاح ختم ہونے کے بعد، تو وہ پوری ہوگئی۔ اب دوسری دفعہ بات کرنے سے نئی طلاق واقع نہیں ہوگی، الا یہ کہ شوہر دوبارہ شرط لگائے۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 416):

وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء كذا في الكافيتنجيز الطلقات الثلاث يبطل تعليق الثلاث وما دونها فلو علق الثلاث أو ما دونها ثم نجز الثلاث قبل وجود الشرط ثم عادت إليه بعد التحليل ثم وجد الشرط لا يقع شيء أصلا كذا في شرح النقاية للبرجندي.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 126):

والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلا يقع الطلاق، ولكن تنحل اليمين لا إلى جزاء حتى إنه لو قال لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق فدخلت الدار وهي في ملكه طلقت...وإن أبانها قبل دخول الدار وانقضت عدتها ثم دخلت الدار لا يقع الطلاق لعدم الملك والعدة، ولكن تبطل اليمين حتى لو تزوجها ثانيا ودخلت الدار لا يقع شيء؛ لأن المعلق بالشرط يصير عند الشرط كالمنجز، والتنجيز في غير الملك والعدة باطل.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 487):

وإذا قال لامرأته: ‌أنت ‌علي ‌حرام سئل عن نيته فإن قال: أردت الكذب فهو كما قال وقيل لا يصدق في القضاء لأنه يمين ظاهرة وإن قال: أردت الطلاق فهو تطليقة بائنة إلا أن يقول: نويت به الثلاث فهو ثلاث وإن قال: أردت التحريم أو لم أرد به شيئا فهو يمين يصير به موليا ومن المشايخ من يصرفه إلى الطلاق من غير نيته للعرف قال صاحب الكتاب: يأتي في الأيمان وعليه الفتوى كذا في غاية السروجي.

النهاية في شرح الهداية - السغناقي (9/ 24 بترقيم الشاملة آليا):

والزوجان إذا اختلفا في وجود الشرط فالقول قول الزوج؛ لأن الإقرار بالتعليق لا يكون إقرارا بوجود الشرط لأن التعليق يمين، فعند وجود الشرط لم يبق يمينا، فكان وجود الشرط ضد اليمين، فكيف يكون الإقرار بالشيء إقرارا بضده.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

03/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب