| 89503 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں ایک پروفیشنل ویڈنگ فوٹوگرافر ہوں۔ میں شادی کی تقریبات میں دلہا دلہن کا فوٹو شوٹ کرتا ہوں اور اس کے علاوہ جو بھی مردوخواتین اس تقریب میں شریک ہوتے ہیں، ان سب کی تصاویر بھی محفوظ کرتا ہوں۔ بعد ازاں ، میں ان تصاویر کا البم تیار کرتا ہوں اور کچھ تصاویر ڈیجیٹل صورت میں ایڈیٹ کر کے کلائنٹ کو فراہم کرتا ہوں، جس کے عوض وہ مجھے معاوضہ ادا کرتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ کام شرعاً جائز ہے؟ اور کیا اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سوال کے جواب سے پہلےیہ بات سمجھ لیں کہ جامعہ الرشید کے موقف کے مطابق اگرکوئی شخص کسی دینی یاجائز دنیوی ضرورت کی بنیاد پر ڈیجیٹل تصویر یا ویڈیو بناتا ہے تو اس کی گنجائش ہے ، بشرطیکہ اس میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو مثلا عریانیت،موسیقی یا غیرمحرم کی تصاویر وغیرہ نہ ہوں۔
صورت مسئولہ میں چونکہ جائز دنیوی ضرورت نہیں ہے، بلکہ حلال وحرام کا خیال رکھے بغیر تصویریں بنوائی جاتی ہیں تو یہ ناجائز اور سخت گناہ ہے ۔ لہٰذا مستقل ویڈنگ فوٹوگرافی کا پیشہ اختیار کرنا جائز نہیں ۔نیز اس سےحاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے ۔تاہم، اگر تصویر میں صرف مرد ہوں تو اس کے بقدر آمدنی حلال ہوگی۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني (7/ 482):
وقال أبو حنيفة: لا تجوز الإجارة على شيء من اللهو والمزامير والطبل وغيره؛ لأنها معصية والإجارة على المعصية باطلة.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 238):
قال: "ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح، وكذا سائر الملاهي"؛ لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 647):
وفي الخلاصة ... وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال:
وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
02 /رجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


